ٹیلی وژن اداکارہ خالدہ ریاست ( یکم جنوری 1953 سے 26 اگست 1996 ) تحریر شاہد لطیف خالدہ ریاست ۔۔۔70 اور80 کی دہائی کا ایک چمکتا ہوا تارہ جو اپنی ہم عصرخاتون فنکاروں، روحی بانو اور عظمیٰ گیلانی سے کسی طور بھی کم نہیں۔پاکستان ٹیلی وژن کراچی مرکز کی نامور اداکارہ عائشہ خان، خالدہ کی بڑی بہن ہیں۔ مزے کی بات یہ کہ اپنی ہم عصر ساتھی فنکاراؤں کے مقابلے میں انہوں نے کم کام کیا لیکن جو کردار ادا کیا، ایسا کیا گویا کہ یہ خالدہ ریاست نہیں بلکہ وہ کردار خود چیخ چیخ کر اپنی موجودگی ثابت کر رہا ہو۔ جید اور تجربہ کار فنکاروں کا اپنا ایک معیار ہوا کرتا ہے لیکن خالدہ کے ہاں معیار کا بھی ایک اپنا ہی معیار ہے۔وہ ایسے کہ انہوں نے اپنی اداکاری کا کوئی ایک معیار مقرر ہی نہیں کیا ۔ اُن کے ہاں تو ہر ایک ڈرامے اور ہر ایک کردار کا اپنا ہی علیحدہ معیار ہوا کرتا تھا۔ اداکاری میں کردار کواپنے اوپر حاوی کر کے سامنے لے آنا کوئی مذاق نہیں۔ دیوانگی کی حد تک کردار میں ڈوب کر اپنی روح کے کرب کو سامنے لانے کی شدید ترین تکلیف اور کسی کے بس کا روگ نہیں ۔ خالدہ ریاست سلسلے وار ڈرامہ سیریل ’ نامدار ‘ سے ٹیل...
پاکستانی فلمی گیت نگار۔۔۔تجھے قرار نہ آئے ، قرار کو ترسے گیت، مکالمہ وکہانی نگار، ہدایتکار اور فلمساز سیف الدین سیفؔ 20 مارچ1922 ۔ 12 جولائی 1993 تحریر شاہد لطیف نام سیف الدین اور تخلص سیف ،20 مارچ1922 کو امرتسرکے ایک معزز ادبی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ابتدائی تعلیم مسلم ہائی اسکول امرتسر سے حاصل کی۔ میٹرک کا امتحان بطور پرائیویٹ امیدوار دیا اور اچھے نمبروں سے پاس کیا۔پھر ایم اے او کالج امرتسر میں داخلہ لیاجہاں محمد دین تاثیر کالج پرنسپل تھے اور انگریزی کے اُستاد فیض احمد فیض تھے۔اِن دونوں کی قربتوں نے سیفؔ میں علمی اور ادبی ذوق بیدار کیا لیکن بعض سیاسی اور مذہبی مسائل میں الجھنے کی بنا پر انہیں امتحان دینے سے روک دیا گیا ۔ اِس وجہ سے سیفؔ نے تعلیم سے مونہہ موڑ لیااور تلاشِ معاش میں سرگرداں ہو گئے ۔اِس پس منظر میں 1946 میں فلمی لائن اختیار کی اور فلمی کہانیاں لکھنے لگے۔ افسوس کہ بر صغیر کی تقسیم کی وجہ سے اُن کی لکھی ہوئی فلمیں نمائش کے لئے پیش نہ ہو سکیں۔پاکستان بننے کے بعد یہ ہجرت کر کے لاہور آ گئے اور پھر یہیں سے اپنی ادھوری تعلیم کا سلسلہ ش...
Comments