Patang Bazi Ki Ijazat ...... Han Ya Naheen !!
پتنگ بازی کی اجازت۔۔۔ہاں یا نہیں
تحریر شاہد لطیف
سنسکرت میں بسنت کا مطلب ’’ بہار ‘‘ کا موسم ہے جو ماگھ کی 5 تاریخ کو منایا جاتا ہے ۔ عام طور پر یہ فروری کے مہینے میں آتا ہے۔ہندووں کی مقدس کتاب وید کے مطابق یہ ’ سَر سوَتی ‘ دیوی کا دِن ہے۔خوشی اور پوجا پاٹ کے ان دنوں میں نئے کپڑے پہن کر پتنگیں اُڑائی جاتی ہیں اور موسیقی سے لطف اُٹھایا جاتا ہے۔بعد میں ہندوستان کے دیگر مذاہب کے لوگ ثقافت کے طور پر اس میں شریک ہونے لگے۔
پتنگ بازی کیا بسنت اور کیا دیگر مہینے۔۔۔ کب نہیں ہوتی!! پتنگ باز جب دل کرے یہ شوق پورا کرتے ہیں۔ پچھلی کئی دہائیوں سے لاہور میں جس کروفر کے ساتھ بسنت منائی جاتی رہی اُس کا اثر پاکستان کے چھوٹے بڑے شہروں میں بھی نظر آیا۔یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ لاہور میں باقاعدہ پتنگ بازی کی صنعت بن گئی۔اس کو وہ مشہوری ملی کہ غیر ممالک سے لوگ لاہور میں خاص طور پر بسنت منانے کے لئے آنے لگے۔اندرون لاہور بعض ’ نامور ‘ حویلیاں اس سلسلے میں بہت زیادہ مشہور ہو گئیں۔ پاکستانی کھلاڑی اور فلمی شخصیات نے پتنگ بازی میں بھر پور حصہ لیا۔60 اور 70 کی دہائیوں کے بارے میں علی سفیان آفاقی صاحب نے خود مجھ کو ایک موقع پر فلمی شخصیات کا بسنت میں بھر پور حصہ لینے کا بتلایا۔کہ کیسے صبیحہ سنتوش، درپن و نیر سلطانہ اور دیگر شخصیات جوش و خروش سے بسنت اور پتنگ بازی میں حصہ لیا کرتی تھیں۔ آفاقی صاحب کہتے تھے کہ اُس بسنت کی پتنگ بازی کے ہلے گلے اور آج کی بسنت میں اب زمین آسمان کا فرق ہو گیا ہے۔ تب کیمیکل ڈور کا کوئی تصور تھا نہ ہی کوئی دھاتی ڈور کا نام جانتا تھا۔مُخالف کی پتنگ کٹنے پر ہوائی فائرنگ کا کوئی چلن نہیں تھا۔ہاں !! اونچی آواز میں گیت ضرور لگائے جاتے تھے۔
بات آگے بڑھانے سے پہلے ایک اچھی بات بتانا ضروری ہے: ذرائع کے مطابق پنجاب حکومت نے ’ چھانگا مانگا ‘ میں بسنت میلہ 21 فروری سے 5مارچ منانے کا اعلان کرتے ہوئے نوٹیفیکیشن جاری کیا ہے۔ ڈی سی او قصور کو ہدایت کرتے ہوئے واضح کیا گیا ہے کہ ’ چھانگا مانگا ‘ کے علاوہ کسی بھی جگہ پتنگ بازی نہیں ہو سکے گی۔جو کرے گا اُس کے خلاف قانون کے مطابق سخت کاروائی کی جائے گی۔میلے میں پتنگ بازی کے لئے استعمال ہونے والی ڈور ضلع انتظامیہ خود فراہم کرے گی۔
پتنگ بازی کو محفوظ بنانابہت بڑا چیلینج ہے۔ خود پڑوسی بھارت میں بھی ایسی ہی صورتِ حال پیش ہے۔ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی ریاست ویسٹ ورجینیا کی ایک انڈین فیملی نے مجھے 2007 میں بتایا کہ بھارتی گجرات میں اب یہ صحتمند تفریح نہیں رہی۔ وہاں کے لوگ سوتی دھاگے کے بجائے خطرناک قسم کا مانجھا استعمال کرتے ہیں۔
پہلے تو چھتوں سے گرنے، سڑکوں پر اندھا دھند پتنگ لوٹنے سے حادثات ہوتے ہی تھے۔ اب دھاتی ڈور کی آمد نے اُن کو بھی دنیا سے چلتا کر دیا جو بے چارے موٹر سائکل پر جا رہے تھے۔ اس پس منظر میں ہمارے ہاں ایک عرصے سے پتنگ بازی کی مخالفت اور حمایت میں ایک نہ ختم ہونے والی بحث جاری ہے۔پتنگ بازی کی حمایت کرنے والے بھی یقیناََ یہ نہیں چاہیں گے کہ اس شوق کی خاطر کوئی اپنی جان سے ہی جائے۔ہونا تو یہ چاہیے کہ لاہور میں پتنگ سازی سے متعلق کاروباری لوگوں کو پابند کیا جائے کہ وہ کوئی دھاتی یا کیمیکل لگی ڈور نہیں بیچیں گے۔جن محلوں میں ایسی ڈوریں بنائی جا رہی ہوں وہاں خود محلہ کمیٹی اِن کی رپورٹ کرے۔
رہے مخالفت کرنے والے تو یہاں گستاخِ رسول حقیقت رائے کا واقعہ سوشل میڈیا پر بہت گردش میں ہے۔ ہندو اور سکھ مورخ اعتراف کرتے ہیں کہ لاہور میں بسنت پنچمی کے روز منایا جانے والا میلہ حقیقت رائے کی یاد میں منایا جاتا ہے۔اس کے مقابل پتنگ بازی کی حمایت کرنے والوں کا کہنا ہے کہ پاکستان میں مذہبی نام نہاد پارساء ، عوام دشمن ہیں جو عوام کو تفریح کے موقع سے محروم کرنا چاہتے ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ وہ حقیقت رائے کی یاد میں پتنگ بازی ہر گز بھی نہیں کرتے۔چین،سنگا پور، تھائی لینڈ اور دیگر ممالک میں بھی کیا حقیقت رائے کی یاد میں پتنگیں اُڑائی جاتی ہیں!!
پتنگ بازی پر پابندی صرف پاکستان میں نہیں بلکہ بھارتی مہاراشٹر اور گجرات میں اس طرح کے مانجھوں سے پتنگ اُڑانے پر پہلے ہی پابندی ہے۔دارالحکومت دہلی میں بھی ایک قانون کے تحت ایسی پابندی موجود ہے۔وہاں بھی گھروں میں چوری چھپے خطرناک مانجھا بنایا جاتا ہے جو اسمگل ہو کر نہ جانے کس طرح پاکستان آ جاتا ہے۔اب تو وہاں نائلون پر شیشہ لگا دھاگہ آ رہا ہے جس کو عوام ’’ قاتل ڈور ‘‘ کے نام سے جانتی ہے۔افسوس اسی بات کا ہے کہ پاکستان میں ایسی ڈور بیچنے اور خریدنے والے اچھی طرح جانتے ہیں کہ یہ ’’ قاتل ڈور ‘‘ ہے۔کبھی خود اِن کے بچوں کی گردن پر خدانخواستہ یہ ڈور پھرے تو انہیں بھی احساس ہو۔
بسنت اور پتنگ بازی کی یہ نئی بحث اُس وقت شروع ہوئی جب وزیرِ اعلیٰ پنجاب نے بیان دیا کہ فروری 2019 میں لاہور کی تاریخی بسنت منائی جائے گی۔واضح ہو کہ 2009 میں پنجاب حکومت نے ایک قانون منظور کیا تھا جس کی رو سے کانچ کا مانجھا بنانے اور بیچنے پر پابندی عائد کر دی گئی تھی۔یہ پابندی 2012 میں لاہور ہائی کورٹ نے ایک اپیل پر بحال رکھی۔اب وزیرِ اعلیٰ پنجاب کے اس بیان پر لاہور کورٹ میں توہینِ عدالت کی درخواست دی گئی۔عدالتِ عالیہ نے صوبائی وزیرِ اطلاعات فیاض الحسن چوہان ، چیف سیکریٹری اور آئی جی پنجاب سے جواب طلب کر لیا۔بدھ کے روزبسنت کی اجازت دینے پر صوبائی وزیرِ اطلاعات، چیف سیکریٹری اور آئی جی اور دیگر کے خلاف توہینِ عدالت کے کیس کی سماعت ہوئی۔درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ عدالتی پابندی کے باوجود صوبائی وزیر کے اعلان کے بعد لوگوں نے پتنگ بازی شروع کر دی۔ چیف سیکریٹری اور آئی جی پنجاب نے اس پتنگ بازی روکنے کے اقدامات نہیں کئے۔عدالتی احکامات پر عمل د رآمد نہ کروانا توہینِ عدالت ہے۔درخواست میں کہا گیا کہ اِن تمام ذمہ داروں کے خلاف توہینِ عدالت کی کاروائی کی جائے۔اس پر سرکاری وکیل نے کہا کہ بسنت منانے کا حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔حکومت نے تو صرف منائے جانے کی رائے طلب کی تھی۔
پاکستانیوں کی اکثریت یقیناََ حقیقت رائے کی یاد میں پتنگ بازی نہیں کرتی۔میں نے بھی بچپن میں پتنگیں اُڑائی تھیں۔اُس وقت میں نے کسی حقیقت رائے کا نام بھی نہیں سُنا تھا۔ بسنت اور پتنگ بازی میں اگر سادگی اختیار کر لی جائے تو کیا مضائقہ؟ کوئی بھی تقریب سادگی سے کی جائے تو اچھی لگتی ہے۔بسنت بے چاری تو ایک طرف رہی کہ سال میں ایک ہی مرتبہ آتی ہے۔آپ اُن شادی بیاہ کی رسومات کو کیا کہیں گے جو بھارتی فلموں کو دیکھ کر ہمارے ہاں رواج پا چکیں !!!!!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اختتام
یہ تحریر 29 دسمبر 2018 کے روزنامہ نوائے وقت کراچی / کوئٹہ کے صفحہ 11 پر کالم اُلٹ پھیر میں شائع ہوئی۔
Comments