برفانی انسان
برفانی انسان
تحریر شاہد لطیف
ایڈورڈ فریڈرک بینسنBenson Edward Frederic ( 24 جولائی 1867 سے 29فروری 1940) مشہور برطانوی ناول نگار، ماہرِ آثارِ قدیمہ اور مختصر کہانی نویس کی حیثیت سے ممتاز ہیں۔ ان کی ایک کہانی پر1961میں امریکہ میں The Twilight Zone سیریز میں ایک فلم پیش کی گئی اور تین ناولوں پر لندن کے چینل 4 نے 1985-86میں ٹیلی وژن سیریل پیش کیے۔مذکورہ سنسنی خیز کہانی The Horror-Horn، 1923 میں شائع ہوئی۔
ہر دور میں برف پوش پہاڑوں پر، پراسرار انسان کے رہنے کی داستانیں اور روایات ایک زمانے سے چلی آ رہی ہیں ۔ اِس کہانی کا مرکزی خیال بھی یہی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سوئزرلینڈ کے 6,000فٹ کی بلندی پر واقع ’’ الفیوبل‘‘Alphubel پہاڑوں کے سلسلے پر پچھلے دس روز سے موسم بہت خوش گوار تھا۔ اس موسم میں لوگ زیادہ سے زیادہ دھوپ کھانے کے لئے ہفتوں منتظر رہا کرتے تھے۔میری طرح کئی سیاح لندن کی مستقل دھند کو چھوڑ کر کھلی فضاؤں میں آئے ہوئے تھے ۔ پہاڑوں پر رات کے ستارے واقعی ہیروں کی طرح سے چمکتے دمکتے تھے۔ دسمبر سے پہلے ہی خاصی برف پڑ چکی تھی اور برف پر پھسلنے والے خوب تفریح کر رہے تھے ۔نزدیک دور کی ڈھلوانوں پر بھی کرتب دکھلانے والوں کے لئے وافر برف جمع ہو چکی تھی۔ البتہ میرے لئے یہ جگہ نئی تھی۔ میں پہلی مرتبہ ’’ اینگا ڈین‘‘ Engadine کی وادی میں موسمِ سرما کا مزہ لینے آیا تھا۔یہ الپائین پہاڑی سلسلے کی ایک بلند وادی ہے جو سوئزر لینڈ کے انتہائی جنوب مشرقی حصہ میں واقع ہے۔
ایک روز دوپہر کو ہلکی برفباری شروع ہو گئی جس نے دیکھتے ہی دیکھتے زور پکڑ لیا۔جو لوگ بھی ڈھلوانوں پر تفریح کر رہے تھے وہ محفوظ ٹھکانوں اور اپنے ہوٹلوں کی جانب دوڑے۔میں یہاں اپنے چچا زاد بھائی اکرم کے ساتھ آیا تھا جو فلسفے کا پروفیسر تھا۔ان کی وجہ مشہوری الپائین پہاڑوں پر چڑھنا تھی۔پچھلے چند روز میں وہ دو مرتبہ مختلف راستوں سے پہاڑ پر خاصا اوپر تک چلے گئے تھے۔لیکن آج۔۔۔آج موسم کے خراب تیور کی وجہ سے وہ میرے ساتھ ہوٹل کے بڑے ہال میں بیٹھے تھے۔کہیں باہر سے وہ لندن کے اخبارات لے آئے تھے جن میں ماؤنٹ ایورسٹ کی 1952کی مہم جوئی کی رپورٹ بھی شائع ہوئی تھی۔
’’ دیکھو کتنی دل چسپ رپورٹ شائع ہوئی ہے‘‘۔یہ کہتے ہوئے پروفیسر اکرم نے اخبار میری طرف بڑھاتے ہوئے کہا۔’’ اس ٹیم کو آئندہ سال ضرور کامیاب ہونا چاہیے۔۔۔لیکن آخری چھ ہزار فٹ عبور کرنا ہی تو اصل معرکہ ہو گا۔جب آپ چوبیس ہزار فٹ چڑھ چکے تو بظاہر چھ ہزار فٹ کوئی وقعت نہیں رکھتے لیکن ۔۔۔یہاں پھیپھڑے ، دل اور دماغ کو بہت زور لگانا پڑتا ہے۔یہاں اچھے اچھے مہم جو ،حواس باختہ اور فریبِ نظر کا شکار ہو جاتے ہیں۔اِن سامنے والے پہاڑوں میں مہم جوؤں کے ساتھ ایک ایسا واقعہ ہو چکا ہے‘‘۔
’’ وہ کیا قصہ ہے؟‘‘۔میں نے بے اختیار پوچھا۔
’’ اُن مہم جوؤں کا خیال تھا کہ بہت بلندی پر کسی انسان کے ننگے پاؤں نشانات دیکھے گئے۔ پہلے پہل انہوں نے اسے فریبِ نظر سمجھا لیکن احتمال یہی ہے کہ وہ انسانی پاؤں کے ہی نشان تھے‘‘ ۔پروفیسر اکرم نے توقف کرتے ہوئے کہنا شروع کیا: ’’میرے حساب سے بلندی پر ایسے انسان کا موجود ہونا ممکنات میں سے ہے۔ میں نے بھی کچھ فاصلہ سے ایسی مخلوق دیکھی ہے۔البتہ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ تجسس کے باوجود میں ایسی مخلوق کے قریب نہیں ہونا چاہتا ۔ویسے اگر برفباری رک جائے تو میں تم کو وہ جگہ د کھا سکتا ہوں جہاں میں نے ایسی مخلوق دیکھی تھی‘‘۔یہ کہتے ہوئے پروفیسر اکرم نے انگلی سے ، ہوٹل کے ہال کی کھڑکی کے شیشے سے باہر، وادی کے پار ٹاور نما ’’ اُنگا ہویا‘‘ Ungeheuer پہاڑ کی طرف اشارہ کیا۔اس کی چوٹی اپنی بناوٹ کی وجہ سے دور و نزدیک مشہور تھی۔ایسا لگتا تھا گویا کسی بہت بڑے گینڈے کا سینگ ہو۔مذکورہ پہاڑ پر صرف ایک ہی جانب سے اوپر جانا ممکن تھا ۔باقی تین اطراف قدرتی کنگر اور چھجوں کی بہتات تھی جس سے اوپر جانا ناممکن تھا۔ جا بجا اور خاص طور پر دامن میں بے شمار بڑے چھوٹے گول پتھر وں کی موجودگی میں چلنا مشکل تھا۔البتہ کناروں پر دیودار اور صنوبر کے درختوں کی بہتات ایک گھنے جنگل کا منظر پیش کرتی تھی اور وہی اوپر جانے کا راستہ تھا ۔
’’اچھا ! وہاں ’’ اُنگا ہویا‘‘ پر؟‘‘،میں نے سوال کیا۔
’’ ہاں ! وہیں ! 20 سال پہلے تک کو ئی بھی شخص اس پہاڑ کی چوٹی سر نہیں کر سکا تھا۔دوسروں کی طرح میں نے بھی بہت کوششیں کی تھیں کہ اوپر جانے کا کوئی راستہ نکل سکے۔اپنے گا ئیڈ کے ساتھ بعض اوقات میں نے مسلسل تین راتیں ’’ بلومین‘‘ Blumenگلیشیر کے پاس عارضی کیمپ میں گزاری تھیں۔پھر ایک مرتبہ خوش قسمتی سے ہمیں اوپر جانے کا راستہ مل گیا۔اُس دِن ہمیں ایک پہاڑی چھجے کے پاس بڑی سی درز نظر آئی جس کی ایک جانب مضبوط چٹانی حصہ نکلا ہوا تھا۔اس کے ساتھ ساتھ پہاڑ میں پانی کے بہاؤ کے کٹاؤ نے بھی راستہ بنا رکھا تھا‘‘۔ اچانک پروفیسر اکرم کی گفتگو کا سلسلہ ٹوٹ گیا کیوں کہ باہر سے سیاحوں کا ایک بڑا گروپ دوڑتا ہوا ہال میں آیا اور وہاں موجود موسیقی کے بینڈ نے ہلکی آواز میں ساز بجانے شروع کر دیے۔
’’ کیسا تضاد ہے! ‘‘۔ پروفیسر نے کہنا شروع کیا۔’’ ادہر ہم گرم اور آرام دہ ماحول میں بیٹھے موسیقی کا لطف اٹھا رہے ہیں اور باہر۔۔۔باہر برف کا طوفان لمحہ بہ لمحہ بڑھتا جاتا ہے۔اور وہ دیکھو۔۔۔اوپر ’’ اُنگا ہویا‘‘ کی چوٹی کو۔کتنی دہشتناک ہے! ‘‘۔
’’ دہشتناک ؟ ‘‘۔ میں نے سوال کیا۔
’’ ہاں ! کم از کم میرے لئے تو بے انتہا دہشت ناک ! ‘‘۔پروفیسر اکرم نے کہا۔
’’ برائے مہربانی مجھے اس کے بارے میں تفصیل سے بتائیے ‘‘ میں نے کہا،’’ خاص طور پر یہ کہ آپ اسے دہشت ناک کیوں کہہ رہے ہیں؟‘‘۔میں نے کہا۔
’’ میں اور میرا گا ئیڈ مائیکل کئی روز سے اوپر جانے کے راستے تلاش کر رہے تھے۔کہیں تھوڑی سی کامیابی ہوتی تھی تو سامنے رکاوٹیں مونہہ کھولے آ موجود ہوتیں۔ہم لوگوں ابھی صرف 500فٹ ہی اوپر گئے ہوں گے کہ پھر سامنے نا قابلِ عبور رکاوٹ آ گئی۔مگر یہ بھی اللہ کی ایک نعمت ثابت ہوئی جب اچانک ہمیں اوپر جانے کا راستہ مل گیا۔مجھے یوں لگتا تھا گویا مائیکل کو کوئی خوف ہے اور وہ اپنا کام بادلِ ناخواستہ کر رہا ہو۔یہ خطرناک پہاڑوں کی اونچائی کا خوف نہیں تھا جب کہ دشوار راستوں اور شدت کے برفانی طوفان اس کے آگے کوئی معنی نہیں رکھتے تھے لیکن اب۔۔۔اب ، جہاں شام ہوئی نہیں وہاں اُس کی واپس جانے کی رَٹ شروع ہوئی نہیں۔مجھے وہ رات آج تک یاد ہے جب ہم شام کا کھانا کھا رہے تھے تو کہیں دور سے بھیڑیے کی پُر ہول آواز سنائی دی۔یہ آواز سنتے ہی مائیکل کا بدن کانپنے لگا۔ اور پھر صبح تک وہ ایک لمحہ کو بھی نہ سو سکا۔تب مجھے خیال آیا کہ مائیکل تو اسی پہاڑی علاقے میں جد ی پشتی رہتا آ رہا ہے ۔اُس کا آواز سن کر اس طرح کانپنا ضرور کوئی معنی رکھتا ہے ۔کیا خبر کسی خوفناک کہانی کا اس چوٹی سے کوئی تعلق ہو ۔اگلی صبح میں نے اُس سے پوچھ ہی لیا کہ اس پہاڑ کی چوٹی کو ’’ دہشت ناک ‘‘ کے نام سے کیوں پکارا جاتا ہے؟ پہلے پہل تو اس نے یہ کہہ کر ٹالنے کی کوشش کی کہ گرتے اور لڑھکتے پتھروں کی وجہ سے یہ نام پڑا لیکن جب میں نے یہ دلیل ماننے سے انکار کر دیا تو بالآخر کہنے لگا کہ اس سلسلہ میں یہاں ایک روایت/ داستان مشہور ہے کہ اوپر چوٹی کے قریب کہیں غاروں میں انسان سے ملتی جلتی مخلوق دیکھی گئی جس کے ہاتھوں اور چہرے کے علاوہ تمام جسم پر بال تھے ۔قد کاٹھ میں تویہ 4فٹ لمبے تھے لیکن ان میں حیرت انگیز طاقت اور پھُرتی تھی ۔ شاید یہ قدیم/قبل از تاریخ کی کوئی انسانی نسل ہو۔ مقامی ماہرین کے مطابق یہ ابھی شروع کی ارتقائی منازل میں ہیں۔داستانوں میں یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ یہ مخلوق کبھی کبھار ہماری لڑکیوں کو لے جاتی ہے ۔ شکار یا آدم خوری کے لئے نہیں بلکہ اپنی نسل بڑھانے کے لئے ‘‘۔ ظاہر ہے مائیکل کے کہے ایک لفظ پر بھی میں نے یقین نہیں کیا۔میرے خیال میں یہ محض ایک لوک کہانی سے زیادہ کچھ نہیں تھی ۔
’’ کیا واقعی کبھی کسی نے اِس مخلوق کو قریب سے دیکھا؟‘‘۔میں نے سوال کیا۔
’’ یہ میں نے بھی مائیکل سے پوچھا تھا ۔ اُس کے مطابق ایک شخص سے اُن کی مڈ بھیڑ ہوئی تھی جو خود بھی بہت پھر تیلا تھا جب ہی برف پر پھسلتا ہوا جان بچا کر، یہ واقعہ سنانے کو زندہ واپس آ گیا۔ وہ مائیکل کے دادا تھے جو ایک موسمِ سرما کی سہ پہر کو ’’ اُنگا ہویا‘‘ پہاڑ کے نیچے گھنے درختوں میں راستہ بھٹک گئے تھے۔مائیکل کا کہنا تھا کہ اُس کے دادا کے مطابق شدت کے موسم کی وجہ سے وہ مخلوق اپنے علاقے سے بہت نیچے خوراک کی تلاش میں آ گئی تھی جب کہ اس سے پہلے ہمیشہ یہ انتہائی بلندیوں پر ہی دیکھی گئی ۔اُنہوں نے مائیکل کے دادا کا پیچھا کیا جو اس وقت نوجوان تھے۔کبھی وہ مخلوق انسان کی طرح دو ٹانگوں پر اور کبھی وہ ہاتھوں پاؤں پر بھاگ رہے تھے ۔ اُن کی آوازیں بھیڑیوں جیسی تھیں ۔ میں نے یہ سب سُن تو لیا البتہ یقین نہیں کیا لیکن اگلے ہی روز میں اسے سچ ماننے پر مجبور ہو گیا ‘‘۔
’’ آپ نے تو نہایت حیرت انگیز بات کہہ دی ۔۔۔اگلے روز ایسا کیا ہو گیا؟‘‘۔میں نے بے چینی سے پوچھا۔
’’ اگلے روز ،پورے ایک ہفتہ کی مہم جوئی کے بعد آخرِ کارہمیں اوپرچوٹی پر جانے کا واحد راستہ مل گیا۔ جیسے ہی صبح کی روشنی ہوئی ویسے ہی ہم دونوں نے اوپر چڑھنا شروع کر دیا۔ چھوٹی بڑی مشکلات عبور کرتے ہوئے ہم صبح 9بجے ’’ اُنگا ہویا‘‘ پہاڑ کی چوٹی پر پہنچ گئے۔ یہاں زیادہ ٹہرنا مناسب نہیں تھا کیوں کہ سورج کی تپش سے برف نرم ہو کر ہمارے لئے خطرے کا باعث بن سکتی تھی۔ہم دونوں نے نہایت احتیاط سے نیچے اترنا شروع کر دیا۔اس طرح ہم اسی بڑی سی درز پر آ نکلے جہاں سے اترائی اب آسان تھی۔اُس وقت ہم دونوں خوشی سے سرشار تھے۔جہاں بڑے گول پتھر تھے وہاں ہاتھوں اور پاؤں کی مدد سے اترنا بالکل اچھا نہیں لگ رہا تھا۔یہاں جا بجا قدرتی غار دکھائی دے رہے تھے جو پہاڑ کے اندر کتنی گہرائی تک تھے ، کوئی پتہ نہیں۔یہاں سے ہم نے نیچے اترنے والے کیل کانٹے اور رسے لپیٹے ۔ ان گول پتھروں میں بعض عام مکانوں سے بھی بڑے تھے ۔ ایسے ہی ایک پتھرسے جوں ہی میں گھوما تو میں نے جو دیکھا اُس نے مجھے ہلا کر رکھ دیا ۔ اب مجھے پتہ لگا کہ مائیکل نے اپنے دادا سے متعلق جو کچھ بتایا تھا وہ کہانی یا فسانہ ہر گز بھی نہیں تھا۔ میری ناک کے عین آگے کچھ فاصلہ پر وہی مخلوق ، کمر کے بل اپنا چہرہ اوپر کئے دھوپ کھاتی ہوئی نظر آئی ۔وہ انسان ہی تھا جس کے چہرے ، ٹھوڑی اور ہاتھوں کے علاوہ باقی اعضاء بالوں سے ڈھکے ہوئے تھے۔ شاید وہ مادہ تھی ۔۔۔اللہ کی پناہ۔۔۔اس کے چہرے سے انسانیت نہیں بلکہ خالص حیوانیت ظاہر ہو رہی تھی۔ خوف میری ریڑھ کی ہڈی میں اتر گیا۔ مارے ڈر کے چیخ تک نہ نکل سکی۔ برفانی چیتے کو بھی دیکھ کر اُس وقت شاید اتنی زیادہ دہشت نہ ہوتی جتنی ایک انسان نما حیوان کو دیکھ کر ہوئی۔اُس کے قریب، کسی جانور کی بھنبھوڑی ہوئی ہڈیاں پڑی ہوئی تھیں۔ اُ س کے ہاتھ میں ایک ہڈی تھی ۔ اُس نے ہاتھ کے انگوٹھے اور ایک انگلی سے اُس ہڈی کو جو دبایا تو وہ سیکنڈوں میں دو حصوں میں تقسیم ہو گئی۔ میرے خوف کی بنیاد یہ نہیں تھی کہ پہلے سے چلی آنے والی سینہ بہ سینہ کہانیاں سچی ثابت ہو گئی تھی بلکہ یہ تھی کہ یہ مخلوق میرے کتنے قریب تھی جو انسان کم اور حیوان زیادہ تھی۔ ’’ اُنگا ہویا‘‘ کی چوٹی سر کرنے کی تمام خوشی رفو چکر ہو گئی اور اب یہی چوٹی اور پہاڑ دہشت کی علامت ہو گیا۔عالمِ دیوانگی یا کوئی خوف ناک خواب بھی اتنا دہشت ناک نہیں ہو گا جتنی یہ حقیقت کہ میرے سامنے کون ہے۔۔۔ مائیکل مجھ سے پیچھے خراماں خراماں چلا آ رہا تھا۔ گول پتھر کے پیچھے بیٹھے بیٹھے میں نے اپنے ہاتھ سے اسے وہیں رُک جانے اور خاموش رہنے کا اشارہ کیا۔ پھر میں بے حد احتیاط کے ساتھدھوپ کھاتی برفانی مخلوق کو اپنی جانب متوجہ کئے بغیر بتدریج وہاں سے دور ہوتا گیا ۔ مائیکل کے قریب پہنچ کر اُس سے سرگوشی میں رام کہانی مختصراََ سناڈالی۔سُتے ہوئے چہروں کے ساتھ ہر ایک موڑ پر احتیاط کا دامن تھامے کہ نہ جانے آگے پھر کسی غار سے اچانک ایسی مخلوق کا سامنا نہ ہو جائے ،ایک لمبے راستہ سے ہم دونوں اللہ کو یاد کرتے ہوئے چلتے رہے۔قسمت نے یاوری کی اور ہم دونوں گول پتھروں پر سے خاموشی کے ساتھ گزر گئے۔ہم جانتے تھے کہ معمولی سی آواز بھی ہماری موجودگی بتلا دیتی اور پھر ہمارے ساتھ اچھا نہ ہوتا۔جیسے ہی ہم درختوں کے نزدیک ہوئے تو سر پر پیر رکھ کر بھاگے اور ہوٹل پر ہی آ کردم لیا۔ اب مجھے پتہ لگا کہ مائیکل کیوں اس مخلوق کے ذکر سے اتنا خوف زدہ ہوا کرتا تھا ‘‘۔ اس دوران موسیقی کا بینڈ خاموش ہو چکا تھا۔ماحول پر ایک سحر انگیز خاموشی طاری تھی۔میں گنگ بیٹھا پروفیسر کی کہانی سُن رہا تھا۔
پروفیسر اکرم نے گفتگو کا سلسلہ دوبارہ جاری کیا ’’ وہ خوف تو میری ہڈیوں میں سرایت کر گیا تھا ۔ مجھے یہ کہنے میں کوئی تامل نہیں کہ پھر میں اس خوف سے کبھی باہر نہ آ سکا۔ اُس مخلوق کو دیکھ کر ایسا لگا جیسے زمانے پہلے ہم بھی ایسے ہی پاتال سے نکلے۔اور یہ مخلوق۔۔۔یہ اب پاتال سے نکلنے کی کوشش کر رہی تھی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پچھلے 20سال میں ان کے مزید دیکھے جانے کا کوئی ریکارڈ دستیاب نہیں ۔ یہ ہم دونوں ہی تھے جو اُس مخلوق کو بہت قریب سے دیکھ کر آئے تھے۔اِس ماؤنٹ ایورسٹ کی رپورٹ میں بھی برفانی انسان کے دیکھے جانے کا ذکر ہے لیکن ایک فرق کے ساتھ۔ وہاں کے برفانی انسان کا قد کاٹھ اوسط انسان سے کہیں بڑا ہے جب کہ یہاں کی مخلوق قد میں چھوٹی تھی‘‘۔ یہاں پروفیسر اکرم کی کہانی اختتام پذیر ہوئی۔ کوئی خوف جب تک خود پر نہ گزرے اُس وقت تک صحیح معنوں میں محسوس نہیں ہوسکتا۔ دوسرے الفاظ میں آپ نے کہہ دیا میں نے سُن لیا والی بات ہے۔
’’ گویا آپ کے نزدیک یہ قدیم ترین انسان کی کوئی گم شدہ کڑی ہے؟ بہر حال دل چسپ بات ہے ‘‘ ۔میں نے پروفیسر اکرم کی گفتگو پر تبصرہ کیا ۔
برف کے طوفان کی شدت ایسی تھی کہ جیسے یہ کبھی ختم ہی نہیں ہو گا۔میں رات صحیح طریقہ سے سو بھی نہیں سکا۔ہواؤں کے اس شور میں ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے وہ دہشت ناک مخلوق دروازے اور کھڑکیاں بجا رہی ہو۔صبح تک طوفان تھم گیا لیکن برفباری بغیر رکے مسلسل تین روز جاری رہی۔ایک رات تو درجہ حرارت منفی50ڈگری تک گر گیا۔اب ’’ اُنگا ہویا‘‘ پہاڑ کی بلندیوں پر کیا حال ہو گا اللہ ہی جانے! میں تو سوچ بھی نہیں سکتا ۔ جو کچھ میرے چچا زاد بھائی نے بتایا وہ اُن کے 20سال پہلے کے مشاہدات تھے۔
تین دن کی برفباری کے بعد موسم کھُل گیا۔ اگلی صبح مجھے ایک دوست کا خط موصول ہوا کہ وہ ’’ سینٹ لوگی‘‘ St. Luigi کے سرمائی تفریح گاہ میں آیا ہوا ہے۔اور اُس نے مجھے بھی صبح برف پر پھسلنے اور دوپہر کے کھانے کی دعوت دی۔وہ جگہ ’’ اُنگا ہویا‘‘کی ڈھلوانوں پر صنوبر اور دیودار کے جنگلات سے محض چند میل کے فاصلے پر واقع تھی۔میں نے پروفیسر اکرم کو اس دعوت کا بتلایا اور ساتھ چلنے کی دعوت دی۔وہ کسی کام میں مصروف تھے اس لئے انہوں نے معذرت کر لی۔
میں نے اپنی تیاری کی اور ڈفیل تھیلے میں دھاتی فریم میں فولادی پٹیوں کی بنی برف پر پھسلنے کے’’ اسکیٹ‘‘ skates کا ایک فالتو جوڑا رکھا اور اُسے پشت کی طرف گلے سے لٹکائے،اسکیزپہنے، برف پر پھسلتا ہو ا مزے سے سینٹ لوگی کی جانب روانہ ہو گیا۔ اس روز آسمان پر کالے گھنے بادل چھائے ہوئے تھے لیکن کسی کسی وقت سورج پوری آب و تاب کے ساتھ اپنی شکل بھی دکھا جاتا تھا ۔ البتہ مجموعی طور پر دھند کی سی کیفیت طاری تھی۔میں جلد ہی تفریحی مقام پر خیریت سے پہنچ گیا۔وہاں میں اور میرے دوست نے کچھ دیر اسکیٹنگ کی پھر دوپہر کا کھانا کھایا۔ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ شام کو موسم بگڑ جائے گا لہٰذا سہ پہر 3بجے اپنے دوست سے اجازت لے کر میں وہاں سے واپس ہو لیا۔جوں ہی میں درختوں کے جنگل میں داخل ہوا توں ہی چہار جانب بادل چھا گئے۔ تھوڑی ہی دیر میں یوں محسوس ہونے لگا گویا بادل درختوں سے بھی نیچے آ گئے ہوں۔دھند کی کثافت بے حد بڑھ گئی کہ چند گز آگے کچھ دکھائی نہیں دیتا تھا۔10ہی منٹ میں مجھے اندازہ ہو گیا کہ میں راستہ بھٹک گیا ہوں۔ اس موقع پر یاد آیا کہ راستہ بھٹکنے پر اترائی کے بجائے چڑھائی چڑھنا چاہیے لہٰذا میں نے ایسا ہی کیااور ’’ الفیوبل‘‘ Alphubel کے دامن میں جا پہنچا۔ابھی تک میں نے اپنی ’’ اسکیز ‘‘ skis پیروں سے نہیں اتاریں تھیں کہ شاید اترائی میں رفتار کی ضرورت پڑ جائے۔ حالاں کہ ان کے ساتھ اوپر کی جانب جانا بھی کوئی آسان نہیں تھا۔ اوپر چڑھتے چڑھتے میں نے اپنی کلائی کی گھڑی میں وقت دیکھا تو علم ہوا کہ ’’ سینٹ لیوگی‘‘ St. Luigi سے نکلے ہوئے مجھے ایک گھنٹہ ہو چکا۔ یہ عرصہ میرے واپس پہنچنے سے بھی زیادہ تھا۔ اب میری پوری توجہ اوپر کی جانب چڑھنے پر مرکوز تھی کہ چند منٹ میں مجھے نیچے جانے کا راستہ مِل سکتا ہے۔ مگر اندر سے میں سخت خوف زدہ ہو رہا تھا کہ رات سر پر آنے والی ہے میرا کیا بنے گا؟پہاڑوں کی سرد رات میں اکیلے رہنا۔۔۔یہ سوچ کر ہی کلیجہ مونہہ کو آتا تھا۔ حالاں کہ ابھی مجھ میں خاصی طاقت و توانائی موجود تھی لیکن شاید نا امیدی ، امید پر غالب آ رہی تھی۔اچانک سامنے کہیں صنوبر کے درختوں کے نزدیک سے دل دہلا دینے والی بھیڑئے کی آواز آئی کہ پتہ پانی ہو گیا۔۔۔آسمان سے گرا کھجور میں اٹکا والی بات صادر آ گئی۔نا اُمیدی رہی ایک طرف ، یہاں تو اب جان کے لالے پڑنے لگے۔میری پشت سے تیز ہوا کا ایک جھونکا آیا جس سے صنوبر کے درختوں سے برف جھڑتی ہوئی مجھ پر اور آس پاس گرنے لگی۔اچانک آسمان سے بادل غائب ہو گئے اور جاتے ہو ئے دن کا سورج نظر آنے لگا۔میرے سامنے جنگل کا کنارہ تھاجہاں میں شاید دائرہ کی صورت کتنی دیر سے بھٹک رہا تھا۔مگر یہ کیا۔۔۔میں تو اب بھی راستہ سے بھٹکا ہوا تھا۔یہ وہ راستہ تھا ہی نہیں جہاں سے میں تفریح گاہ میں آیا تھا۔میرے عین سامنے ڈھلوان تھی جہاں جا بجا گول پتھر پڑے نظر آ رہے تھے۔یہ تو ’’ اُنگا ہویا‘‘ یا دہشت ناک پہاڑ تھا۔اب مجھے پتہ چلا کہ اندر کا خوف کیا بلا ہوتی ہے۔وہ بھیڑئے کی دل ہلا دینے والی آواز۔۔۔پھر میں نے جو دیکھا۔۔۔اُس کو بیان کرنے کے لئے حیرت ہے کہ میں زندہ کیسے رہ گیا ۔
مجھ سے کوئی 20گز کے فاصلہ پر ایک ٹوٹا ہوا درخت گرا ہوا تھا۔اس پر وہ ۔۔۔انسان نما حیوان ٹیک لگائے نظر آیا۔وہ مادہ تھی۔ اُس کے سر کے بال کاندھے تک تھے۔اُس کے چہرے پر نظر پڑتے ہی میں نے نہ صرف اپنے بلکہ اپنے چچا زاد بھائی پروفیسر اکرم کے ذہن سے اس خوف کا ادراک کر لیا ۔ اس کے رال ٹپکتے مونہہ سے حیوانیت پھوٹی پڑ رہی تھی۔پاتال کیا ہے اور وہاں کی مخلوق کیا ہوتی ہے، پروفیسر اکرم نے جو بتایا تھا وہ مجسم میرے سامنے موجود تھا۔
ایک ہاتھ سے اُس نے ا یک سانبھر کو سینگوں سے پکڑ رکھا تھا۔جو آزاد ہونے کے لئے ٹانگیں چلا رہا تھا۔سانبھر کی پچھلی ٹانگ سے اُس مخلوق کو ضرب بھی لگی، جس پر غصہ سے چر اہ گاہ کی گھاس کی طرح اُس نے دوسرے ہاتھ سے سانبھر کی اگلی ایک ٹانگ کو توڑ ڈالا۔اور کھینچ کرٹانگ باقی جسم ہی سے علیحدہ کر لی۔ٹپکتے خون کے ساتھ وہ ٹانگ چوسنے لگی جیسے بچے لولی پاپ چوستے ہیں۔حیرت کی بات ہے کہ اُس کے دانت عام انسانوں جیسے تھے۔
مجھے یہ منظر دیکھتے ہوےء چند سیکنڈ ہی ہوئے ہوں گے کہ دل نے کہا کہ ابھی وقت ہے یہاں سے نو دو گیارہ ہو جاؤ۔بظاہر تمام طرح کی احتیاط کے با وجود ایسی کوئی آواز پیدا ہو ہی گئی جس سے وہ انسان نما مخلوق میری جانب متوجہ ہو گئی اور اُس نے مجھے دیکھ لیا۔باقاعدہ انسانوں کی طرح اُس نے پوری گردن گھما کر میری طرف دیکھا اور تڑپتے ہوئے سانبھر کو اپنے ہاتھ سے چھوڑ دیا؛ اور اپنی جگہ سے اُٹھتے ہوئے میری جانب بڑھی۔اس کے ساتھ ہی اپنا مونہہ کھول کر ویسی ہی آواز نکالی جیسی تھوڑی دیر پہلے میں نے سنی تھی۔فوراََ ہی کہیں دور سے اُس کی پکار کا جواب آ گیا۔
میں نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا کہ پیروں میں اسکیز موجود تھیں۔میں غو طہ مار کر نیچے ڈھلوان کی جانب برف پر پوری رفتار سے پھسلتا ہوا چلا۔واضح ہو کہ یہاں میری مشق کام آئی ورنہ درختوں میں رفتار کے ساتھ اسکی Ski کرنا کوئی آسان کام نہیں ہوتا۔میرے پاس مقابلہ کی صورت میں صرف ایک ہی ہتھیار تھا۔ وہ میرا سفری تھیلا تھا جس میں میرے اسکیٹسskates اور ایک اسکی اسٹک ski-stick موجود تھی۔دوسری اسکی اسٹک بھاگتے ہوئے کہیں گر گئی لیکن چوں کہ ایک ایک لمحہ قیمتی تھا لہٰذا رکنا تو دور کی بات ہے میں نے اپنی رفتار تک کم نہ کی۔حتیٰ کی پیچھے مڑ کر بھی نہیں دیکھا۔ مجھے کوئی اندازہ نہیں تھا کہ پیچھا کرنے والی کس رفتار سے آ رہی ہے اور آ بھی رہی ہے یا نہیں؟ میری تمام توانائی اور توجہ اس جگہ سے جلد از نکل جانے پر مرکوز تھی۔ تھوڑی دیر تک تو صرف میری اسکی کے نیچے پھسلتی برف ہی کی آواز آتی رہی البتہ مجھ سے خا صا قریب، اُسی بھیڑئے کی آواز دوبارہ سنائی دی اور ساتھ ہی اپنے اسکیز کے علاوہ کسی کے دوڑتے قدم بھی محسوس ہونے لگے۔
میرے ڈفیل سفری تھیلے کا پٹہ مسلسل میری گردن پر رگڑ لگا رہا تھا لہٰذا میں نے رکے بغیردوڑتے دوڑتے ہی ڈفیل سفری تھیلا اتار کر ایک ہاتھ میں مضبوطی سے تھام لیا۔اب مجھے نہ صرف اسکینگ میں آسانی ہو گئی بلکہ سانس لینا بھی قدرے آرام دہ ہو گیا۔ نیچے راستہ بھی نظر آ گیا جس سے بہت ڈھارس بندھی۔
اب اگر میں اُس راستہ تک پہنچ جاؤں تو میری رفتار کم از دوگنی ہو سکتی ہے کیوں کہ یہ باقاعدہ اسکینگ والوں کا ہی کھلا راستہ ہے۔ اس طرح میں اپنا پیچھا کرنے والی کو کہیں پیچھے چھوڑ سکتا ہوں۔ یہاں پر تجسس آڑے آیا کہ دیکھوں تو سہی میرا پیچھا کون اور کتنے فاصلے پر کر رہا ہے۔ میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا۔۔۔وہ وہی تھی۔۔۔بھاگتے ہوئے اس کے لانبے بال ہوا سے بکھر بکھر جاتے تھے۔وہ سخت غصہ میں اپنی مٹھیاں بھینچ رہی تھی ۔ کھلا راستہ اب تھوڑے ہی فاصلہ پر تھا جس کی وجہ سے میں غیر محتاط ہو گیا۔اب تک میں بہت دیکھ بھال کر اسکینگ کرتا رہا تھا لیکن اب ایک معمولی سی برف زدہ جھاڑی میرے راستہ میں آئی ، میں سمجھا کہ اس کو آسانی سے عبور کر جاؤں گا لیکن اندازہ غلط ثابت ہوا اور میں ٹھوکر کھا کر گر پڑا۔وہی لمحہ تھا جب میں نے دیوانے پن کی ہنسی نما چیخ سنی جس سے میری روح تک کانپ اٹھی۔ اس سے پہلے کہ میں اٹھتا میں نے اپنی گردن پر اُس کی فولادی انگلیاں محسوس کیں ۔شکر ہے کہ میرا دایاں ہاتھ جس میں میرا ڈفیل سفری تھیلا تھا، وہ آزاد تھا ۔میں نے پوری قوت سے تیزی کے ساتھ چکر دیتے ہوئے اُسے حملہ آور کے سر پر دے مارا۔مجھے پکا یقین تھا کہ ایک ہی ضرب کام دکھا دے گی۔اس سے پہلے کہ میں اپنے گردن موڑ کر پیچھے دیکھتا ، میری اپنی گردن پر حملہ آور مخلوق کی فولادی انگلیوں سے آزاد ہوگئی ۔میں اپنے قدموں پر کھڑا
ہو ا اور پیچھے مڑ کر دیکھا۔
وہ وہاں گری ہوئی تھی۔اُس کا جسم جھٹکے کھا رہا تھا۔پھر اس پر کپکپی طاری ہو گئی۔میرے ایک اسکیٹskates کے کونے نے پوری قوت سے اُس کی ایک کنپٹی پر ضرب لگائی تھی جہاں سے خون جاری تھا۔میرے ہوش ابھی ٹھکانے نہیں آئے تھے کہ 100گز کے فاصلہ سے ویسی ہی ایک اور مخلوق چھلانگیں مارتی دکھائی دی۔بس یہی لمحہ تھا جب میں نے اپنی بچی ہوئی توانائی جمع کی اور ایک نئے عزم کے ساتھ ہوا ہو گیا۔دودھ کا جلا چھاج بھی پھونک پھونک کر پیتا ہے۔اب کے میں نے ایک دفعہ بھی یہ دیکھنے کی کوشش نہیں کی کہ کوئی میرے پیچھے آ رہا ہے یا نہیں۔مجھے اچھی طرح سے علم ہو چکا تھا کہ اب آر یا پار ہو گا، لہٰذا جب تک میں اپنوں میں نہیں پہنچتا اُس وقت تک میں محفوظ نہیں۔میں پوری رفتار سے بھاگتا رہا یہاں تک کہ ہوٹل پہنچ گیا اور اُس کا دروازہ کھول کر چیختا ہوا اندر پہنچا۔اندر۔۔۔ موسیقی کا بینڈ ہلکی آواز میں نغمہ سرا تھا۔ہال میں لوگ خوش گپیوں میں مصروف تھے۔ وہیں۔۔۔پروفیسر اکرم بھی دکھلائی دیے جو میری چیخ سُن کر میری جانب لپکے۔
’’ میں نے بھی اُنہیں دیکھ لیا ‘‘ ۔میں بہ آوازِ بلند بولا۔’’ دیکھو ! میرے سفری تھیلے کو دیکھو۔کیا اس پر خون نظر آ رہا ہے؟ یہ اُن کی مادہ کا ہے۔ چڑیل کا ہے۔جس نے اپنے ایک ہاتھ سے سانبھر کی ٹانگ ہی توڑ ڈالی۔اور مجھے دیکھ کر میری ہی جان کو عذاب ہو گئی‘‘۔میں نے ہانپتے ہوئے اتنا کہا اور۔۔۔پھر مجھے کچھ ہوش نہ رہا۔ جب مجھے ہوش آیا تو میں بیڈ پر تھا اور پروفیسر اکرم میرے سامنے کرسی پر بیٹھے ہوئے تھے۔اُنہوں نے مجھے تسلی دی کہ اب میں خیریت سے ہوں۔اُسی وقت ایک اور صاحب نے مجھے ایک ٹیکہ لگایا جو یقیناََ ڈاکٹر ہوں گے۔
دوسرے دن میں نے اپنی مہم جوئی کی کہانی تفصیل سے سُنائی۔تین چار افراد رائفلوں سے مسلح ہو کر میرے ساتھ اُس مقام تک چلے جہاں اُس مخلوق نے مجھ پر حملہ کیا تھا اور جواب میں وہ میری اسکیٹ والے سفری تھیلے کی ضرب کی تاب نہ لا سکی۔وہاں اسی جھاڑی کے پاس اب بھی برف پر بہت زیادہ خون نظر آیا ۔میرے اسکی ski کے نشانات پر اُلٹا چلتے ہوئے ہم لوگ اُس گرے ہوئے درخت تک جا پہنچے ۔ یہاں اب بھی سانبھر کی لاش پڑی ہوئی تھی۔اُس کی چار میں سے تین ٹانگیں سلامت تھیں جب کی چوتھی۔۔۔چوتھی کا کوئی اتا پتا نہیں لگ سکا۔یہ میری کہانی کی تصدیق کے لئے کافی تھا۔باقی رہی زخمی مخلوق۔۔۔ تو میرا خیال ہے کہ اُس کا ساتھی اُس کو لے گیا۔
بہر حال یقین نہ کرنے والوں کے لئے عرض ہے کہ وہ جب موقع ملے تو ’’ اُنگا ہویا‘‘ کے غاروں کے اندر گھومتے پھرتے رہیں شاید کبھی ان کی بھی ایسے کسی برفانی انسان نما حیوان سے ملاقات ہو جائے !
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اختتام
یہ تحریر اپریل کے ماہنامہ قومی ڈائجسٹ میں شائع ہویہ۔
Comments