ٹیلی وژن اداکارہ خالدہ ریاست ( یکم جنوری 1953 سے 26 اگست 1996 ) تحریر شاہد لطیف خالدہ ریاست ۔۔۔70 اور80 کی دہائی کا ایک چمکتا ہوا تارہ جو اپنی ہم عصرخاتون فنکاروں، روحی بانو اور عظمیٰ گیلانی سے کسی طور بھی کم نہیں۔پاکستان ٹیلی وژن کراچی مرکز کی نامور اداکارہ عائشہ خان، خالدہ کی بڑی بہن ہیں۔ مزے کی بات یہ کہ اپنی ہم عصر ساتھی فنکاراؤں کے مقابلے میں انہوں نے کم کام کیا لیکن جو کردار ادا کیا، ایسا کیا گویا کہ یہ خالدہ ریاست نہیں بلکہ وہ کردار خود چیخ چیخ کر اپنی موجودگی ثابت کر رہا ہو۔ جید اور تجربہ کار فنکاروں کا اپنا ایک معیار ہوا کرتا ہے لیکن خالدہ کے ہاں معیار کا بھی ایک اپنا ہی معیار ہے۔وہ ایسے کہ انہوں نے اپنی اداکاری کا کوئی ایک معیار مقرر ہی نہیں کیا ۔ اُن کے ہاں تو ہر ایک ڈرامے اور ہر ایک کردار کا اپنا ہی علیحدہ معیار ہوا کرتا تھا۔ اداکاری میں کردار کواپنے اوپر حاوی کر کے سامنے لے آنا کوئی مذاق نہیں۔ دیوانگی کی حد تک کردار میں ڈوب کر اپنی روح کے کرب کو سامنے لانے کی شدید ترین تکلیف اور کسی کے بس کا روگ نہیں ۔ خالدہ ریاست سلسلے وار ڈرامہ سیریل ’ نامدار ‘ سے ٹیل...
خوا ب سا دیکھا ہے تعبیر نہ جانے کیا ہو۔۔۔ تحریر شاہد لطیف ملائشیا کے وزیرِ اعظم نے اِس سال 23 مئی کو اپنی اور اپنی کابینہ کے ارکان کی تنخواہوں میں 10 فی صد کٹوتی کا اعلان کر دیاجس کا فوری نفاذ بھی ہو گیا۔جو یہ ثابت کرتا ہے کہ وزیرِ اعظم مہاتیر محمد اپنے ملک کے مالی مسائل کے حل کے لئے بہت سنجیدہ ہیں۔ ملائشیا کی نئی حکومت کا ملک پر US$250 billion کا قرض اتارنے کا یہ قابلِ تعریف اور قابلِ تقلیداقدام ہے ۔تحقیق کے مطابق اِس کٹوتی سے پہلے ملائشیا کی پارلیمان کی ماہانہ تنخواہیں کچھ اس طرح سے تھیں: وزیرِاعظم: رنگٹ ملائشین 22,827 RM US$5,700)، نائب وزیرِ اعظم: RM18,168 ، وزیر: RM14,907 اور نائب وزیر: RM10,848ْ۔آج کل ایک رنگٹ برابر 29.15روپے ہے۔ جب وزیرِ اعظم سے پوچھا گیا کہ کیا سول سروس کے اعلیٰ افسران کی تنخواہوں میں بھی کٹوتی ہو گی تو مہاتیر محمد نے کہا : ’’ جب میں 1981 میں وزیرِ اعظم بنا تو میں نے پہلا کام وزیروں اور سول سروس کے اعلیٰ افسران کی تنخواہوں میں کمی کا کیا تھا۔سول سروس کے اعلیٰ افسران، وزرا سے کہیں زیادہ تنخواہیں پاتے ہیں۔اب یہ اُن پر ہے کہ وہ ملک پر قرضہ کا بوج...
Comments