Posts

ہماری اقدار سے عوام کی جہالت

ہماری اقدار سے عوام کی جہالت!! تحریر شاہد لطیف  گزشتہ بدھ بھارتی فضائیہ کے طیارے کے ہواباز ’ ونگ کمانڈر ابھی نندن ‘ کے بے قابو عوام کے ہاتھوں تضحیک آمیز سلوک کی ویڈیو سوشل میڈیا پر گردش میں رہی جس کو دیکھ کر گردن شرم سے جھک گئی۔یہ سب ہی کو پتا ہے کہ مسلسل دوسرے روز بھارتی فضائیہ کی پاکستانی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرنے پر پاکستانی فضائیہ نے اُن کے دو طیارے مار گرائے۔ اِن میں سے ایک پاکستانی حدود او ر دوسرا مقبوضہ کشمیر میں جا گرا۔ قضا سر پر دیکھ کر ونگ کمانڈر ابھی نندن پیرا شوٹ سے کود کر طیارے سے باہر چھلانگ لگا گیا۔یہ نہ تو بھارتی فضائیہ کے مشقوں کا میدان تھا نہ ہی بھارتی ونگ کمانڈر کی خالہ کا گھر۔پھر مشقوں میں پیرا شوٹ سے چھلانگ لگانا اور ’ دشمن ‘ کے ملک میں طیارے کی ’ یقینی ‘ تباہی سے لمحہ بھر پہلے جان بچا کر پیرا شوٹ سے کودنے میں زمین و آسمان کا فرق ہوتا ہے۔پہاڑ، درخت، ندی نالے، جھاڑیاں اور سب سے بڑھ کر بے قابو ہجوم۔ بظاہر صحیح و سالم پاکستانی حدود میں اُترتے ہی ونگ کمانڈر ابھی نندن پر یہ کہاوت : ’’ آسمان سے گرے کھجور میں اٹکا ‘‘ پوری اُتری ۔ زمن پر اترتے...

PDF فارمیٹ میں پلے بیک سنگر مجیب عالم

’’ وہ میرے سامنے تصویر بنے بیٹھے ہیں‘‘  اور ’’ میں تیرے اجنبی شہر میں ڈھونڈتا پھر رہا ہوں تجھے‘‘ جیسے گیتوں کے گلوکار قدرتی فلمی پلے بیک گلوکار مجیب عالم ( 4 ستمبر 1948 سے 2جون 2004 ) تحریر شاہد لطیف 4 ستمبر 1948 کو کانپور، اُتر پردیش، بھارت میں پیدا ہونے والے مجیب عالم کے پاکستان ہجرت اور ابتدائی دور کے بارے میں تذکرے خاموش ہیں۔گو کہ میری ان سے خاصی اچھی دعا سلام تھی لیکن انہوں نے بھی کبھی اس موضوع پر بات نہیں کی۔بہرحال 60 کی دہائی کے اوائل سے یہ فلمی پلے بیک گلوکاری میں بتدریج شہرت پانے لگے۔ 1968 وہ سال ہے جب مجیب بھائی کی آواز نکھر کر خوب سے خوب تر ہو گئی۔اور وہ واقعی اُس دَور کے سرکردہ پلے بیک گلوکار ہو گئے۔اس بات کی ایک ہی مثال کافی ہے: فلم ’’ جانِ آرزو‘‘ کا ایک گیت ’ اے جانِ آرزو تجھے کیسے بھلائیں ہم، آ جا کے دے رہے ہیں ابھی تک صدائیں ہم ‘ توجہ سے سنیں تو موسیقی کی معمولی شُدھ بدھ رکھنے والے بھی بہت خوش گوار اثر لیں گے۔اخترؔ شیرانی کا کلام، ماسٹر عنایت حسین کی دل فریب موسیقی اور مجیب بھائی کی پُر تاثیر آواز۔ تمام سُر رچے ہوئے اور مکمل گرفت میں محسوس ہوت...

پلے بیک گلوکار مجیب عالم

Image
 روزنامہ نوائے وقت کراچی کی 26 فروری کے صفحہ فن و ثقافت میں شائع ہونے والی تحریر پلے بیک گلوکار مجیب عالم

PDF فُٹ پاتھ پیدل چلنے والوں کے لئے بنتے ہیں ۔۔۔ کیا واقعی !!

فُٹ پاتھ پیدل چلنے والوں کے لئے بنتے ہیں ۔۔۔ کیا واقعی !! تحریر شاہد لطیف   ٹریفک پولیس نے سڑک پر پیدل چلنے والے افراد کے لئے ایڈوائزری جاری  کی ہے کہ سڑک پر پیدل چلنے والے افراد ہمیشہ فٹ پاتھ کا استعمال کریں۔اوور ہیڈ بریج یا انڈر پاس کا استعمال کریں۔چلتی ٹریفک کے درمیان کبھی سڑک عبور کرنے کی کوشش نہ کریں۔شاہراؤں پر کسی بھی گاڑی / موٹر سائیکل چلانے سے پہلے ڈرائیونگ کے اصولوں سے واقفیت اور سیفٹی قوانین کی  آ گاہی مہم شروع کی گئی۔گزشتہ سال بھی 16 نومبر کو مئیر کراچی وسیم اختر نے دعویٰ کیا تھا کہ کراچی کے تمام فٹ پاتھ پر تجاوزات کے خلاف آپریشن کریں گے: ’’ میں اکیلا نہیں ہوں سپریم کورٹ، رینجرز اور پولیس سمیت ادارے ہمارے ساتھ ہیں‘‘۔دونوں باتوں کا بھلا کوئی کیا جواب دے۔کیا سٹی ٹریفک پولیس کو علم نہیں کہ کراچی کی مصروف سڑکوں کے فٹ پاتھوں پر چلنا پُلِ صراط پر چلنے کی مشق ہے؟اوور ہیڈ برجوں پر بھکاریوں اور نشئیوں کا قبضہ ہے۔ لڑکیاں اور خواتین بے چاری ان کو استعمال کرنے سے رہیں۔ مئیر صاحب!! کیا فٹ پاتھ اب بھی نیلام نہیں ہو رہے؟جب فٹ پاتھ بکتے اور نیلام ...

فٹ پاتھ پیدل چلنے والوں کے لئے بنتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ کیا واقعی !!

Image
 روزنامہ نوائے وقت کراچی کی 23 فروری 2019 کی اشاعت کے صفحہ 11 پر شائع ہونے والا کالم اُلٹ پھیر

پاکستان کی کامیاب گلوکارہ مالا بیگم

Image
 روزنامہ نوائے وقت لاہور کی 9  اکتوبر 2018 کی اشاعت میں صفحہ فن و ثقافت پر شائع ہونے والی تحریر

عشرہ 60 اور 70 کی ایک نامور فلمی گلوکارہ مالا بیگم PDF

عشرہ 60 اور 70 کی ایک نامور فلمی گلوکارہ    مالا بیگم ( 9 نومبر 1939 سے 6 مارچ 1990) تحریر شاہد لطیف نسیم نازلی المعروف مالا ہمارے ملک کی ایک بڑی اور اپنے وقت کی کامیاب گلوکارہ رہی ہیں ۔ پاکستانی فلمی صنعت کی تاریخ ان کے ذکر کے بغیر ادھوری ہے۔ ان کے گائے ہوئے بعض گیت و غزل اب بھی بہت مقبول ہیں اور ری مِکس کرنے والے نئے فنکاروں کے نغمے نجی ٹیلی وژن چینلوں اور ایف ایم ریڈیو اسٹیشنوں سے نشر ہوتے رہتے ہیں۔ اپنی فنکارانہ شروعات کے سلسلے میں مالا بہت خوش قسمت ثابت ہوئیں۔تحقیق سے یہ پتا چلتا ہے کہ مالا کی گلوکاری کی ابتدا 1950 سے شروع ہوئی لیکن اُن کا کوئی قابلِ ذکر فلمی یا غیر فلمی گیت نہیں ملا۔اتنا معلوم ہوا کہ مالا کے ایک قریبی عزیز مرزا سلطان بیگ عر ف نظام دین ریڈیو پاکستان لاہور سے ایک طویل عرصہ شام کا پروگرام ’ جمہور کی آواز‘ کرتے رہے۔ قیاس ہے کہ مالا اور اُن کی بڑی بہن شمیم نازلی جو پاکستان کی پہلی  خاتون فلمی موسیقار ہیں، دونوں ان کے ساتھ ریڈیو پاکستان گئیں اور وہیں سے موسیقی کے شوق نے تیزی پکڑی ۔مالا کو گانے اور شمیم کو موسیقی کا شوق تھا۔ پھر ریڈیو...