La-zawaal Mosiqar khalil Ahmed
’’ میں نے پیروں میں پائل تو باندھی نہیں کیوں صدا آ رہی ہے چھنن چھنن‘‘ ’’ انشاء جی اُٹھو اب کوچ کرو اس شہر میں جی کا لگانا کیا‘‘ ’’کسی چمن میں رہو تم بہار بن کے رہو‘‘ اور ’’ خدا وندا یہ کیسی آگ سی جلتی ہے سینے میں‘‘ جیسی دھنوں کے خالق موسیقار خلیل احمد ( 3 نومبر1936 سے 21 جولائی 1997) تحریر شاہد لطیف 3 نومبر1936 کو آگرہ شہر میں پیدا ہونے والے خلیل احمد خان یوسف زئی کو زمانہ پاکستانی فلموں اورپاکستان ٹیلی وژن کے نامور موسیقار خلیل احمد کے نام سے جانتا ہے۔اِن کے بعض تذکروں میں پیدائش کی تاریخ 3 مارچ اور شہر گورکھ پور بھی ملتا ہے ۔ ابتدا ہی سے گلوکاری سے رغبت رہی۔طالبِ علمی کے دور میں گیت گانے کے مقابلوں میں میں حصہ لیا اور انعامات بھی حاصل کئے۔انہی تذکروں میں آ گرہ یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کر کے 1952 میں پاکستان ہجرت کرنے کا بھی ذکر ملتا ہے۔یہ پاکستان بننے کے بعد ڈھاکہ ، مشرقی پاکستان چلے آئے۔یہیں وہ ریڈیو پاکستان ڈھاکہ کے شعبہء موسیقی سے منسلک ہو ئے ۔روز مرہ بنگلہ زبان اور بنگالی لوک اور روایتی موسیقی بھی سیکھی ۔ پھر وہ کراچی منتقل ہو گئے۔یہاں ایک پ...