Posts

فلمساز، ہدایتکار، کہانی و منظر نامہ نگار اور موسیقار کواجہ خورشید انور۔۔۔۔۔ ستارہ امتیاز

Image
 روزنامہ نوائے وقت کراچی/کوئٹہ کی 11 دسمبر کی اشاعت کے صفحہ فن و ثقافت میں شائع ہونے والی تحریر

کیا تجاوزات آپریشن مصلحتوں کی نذر ہونے والا ہے؟

Image
"روزنامہ نوائے وقت کراچی/کوئٹہ کی 8 دسمبر کی اشاعت میں صفحہ 11 پر شائع ہونے والا کالم " اُلٹ پھیر

فلم "جگنو"، " چن وے" اور " دوپٹہ" کے موسیقار فیروز نظامی

Image
 روزنامہ نوائے وقت کراچی/کوئٹہ کی 4 دسمبر کی اشاعت کے صفحہ فن و ثقافت میں شائع ہونے والی تحریر

اُلٹا چور کوتوال کو ڈانٹے ۔۔۔۔۔۔

Image
 روزنامہ نوائے وقت کراچی/کوئٹہ کی یکم دسمبر کیاشاعت میں صفحہ 11 پر شائع ہونے والا کالم اُلٹ پھیر

Gayay Gi Duniya Geet Mairay. Mosiqar Rasheed Attre

’’ اے مردِ مجاہد جاگ ذرا اب وقتِ شہادت ہے آیا ‘‘  اور ’’ گائے گی دنیا گیت میرے ‘‘ موسیقار رشید عطرے (15 فروری 1919سے 18 دسمبر 1967 )  تحریر  شاہد لطیف امرتسر میں واقع خوشی محمد کے گھرانے میں 15 فروری 1919 کو ایک بیٹا پیدا ہوا۔ بچے کا نام عبد الرشید رکھا گیا۔ یہ موسیقی کا گھرانہ تھا۔ کس کو پتہ تھا کہ عنقریب یہ بچہ موسیقی کی دنیا میں اپنی پہچان بنائے گا۔ویسے بھی خواہ وہ موسیقی کا گھرانہ ہی کیوں نہ ہو، گھر کے تمام افراد مشہور نہیں ہوتے۔اس بچے کے والد خوشی محمد بہت اچھے گلوکار اور ہارمونیم نواز تھے۔عبد الرشید نے ابتدا میں اپنے والد سے اسرار و رموز سیکھے پھر خاں صاحب عاشق حسین سے موسیقی کی تعلیم حاصل کی۔کئی ایک سازوں میں مہارت حاصل کر لی خاص طور پر طبلہ جو ردھم اور تال کی اکائی ہے۔موسیقی کی تعلیم کے ساتھ ساتھ انہوں نے ایف اے بھی کیا ۔اِن کے تذکروں میں اُس وقت کے ایک عظیم گائیک اُستاد فیاض علی خان، بڑودا والے کے شاگرد ہونے کا بھی ذکر ملتا ہے۔غالباََ انہی دو اساتذہ کے ہاں تعلیم کے دوران عبد الرشید کو دھنیں کمپوز کرنے کا شوق ہوا۔ پھر وہ پنجاب سے کلکتہ من...

گائے کی دنیا گیت میرے،موسیقار رشید عطرے

Image
 روزنامہ نوائے وقت کراچی اور کوئٹہ کی 27 نومبر کی اشاعت میں صفحہ فن و ثقافت میں شائع ہونے والی تحریر

TV Channels Kay Morning Show Aur Urdu Angraizi Ka Malghooba

ٹی وی چینلوں کے مارننگ شو اور اُردو انگریزی کا ملغوبہ تحریر شاہد لطیف پاکستان ٹیلی وژن کی نشریات شروع شروع میں شام ساڑھے چار بجے سے رات دس گیارہ بجے تک ہوا کرتی تھیں۔پھر صبح کی نشریات شروع ہوئیں۔اُس زمانے میں ریڈیو کی طرح پروگرام سے پہلے اسکرین پر اناؤنسر آ کر آنے والے پروگرام کے بارے میں بتایا کرتی تھی۔ بہرحال نہ اناؤنسر نے کبھی صبح کی نشریات کو انگریزی میں مارنگ شو کہا نہ ہی کبھی پاکستان ٹیلی وژن کی انتظامیہ نے یہ کہلوایا۔ پی ٹی وی کے تما مراکز میں باقاعدہ ایک شعبہ ہوتا تھا جو اناؤنسر کے تلفظ اور اُس کی اُردوسمیت تمام پروگراموں میں ہونے والی گفتگو، مکالموں وغیرہ کی بہت سخت دیکھ بھال کیا کرتا تھا۔کرنا بھی چاہیے تھا۔اس کا مثبت نتیجہ یہ نکلا کہ پاکستان ٹیلی وژن کے پروگرام خالص پاکستانی بن گئے ۔ پھر جب 1990 میں شالیمار ریکارڈنگ اینڈ براڈکاسٹنگ کمپنی کے ساتھ تین سالہ معاہدے کے تحت ا ین ٹی ایم (نیٹ ورک ٹیلی وژن مارکٹنگ) کی نشریات شروع ہوئیں تو آہستہ آہستہ فرق سامنے آنے لگا۔ اسکرپٹ میں ایک ایک لفظ کو دیکھنا اور ریہرسلوں میں تلفظ اور صحیح اُردو پر گرفت ڈھیلی پڑ گئی۔آرٹسٹوں کو ...