Posts

پاکستانی فلمی صنعت کا وہ خوش نصیب موسیقار جس کے تقریباََ تمام گیت مقبولِ عام ہوئے ۔ شوکت علی دہلوی المعروف ناشاد

Image
 روزنامہ نوائے وقت کراچی اور کوءٹہ کے صفحہ فن و ثقافت میں 13  نومبر کو یہ تحریر شائع ہوئی۔

Ghalat Ko Saheeh Saabit Karnay Ka Nouha !

جامعہ کراچی کی کمزور انتظامیہ۔۔۔ غلط کو صحیح ثابت کر دینے کا نوحہ ! تحریر شاہد لطیف یقین کیجئے آج کے موضوع پر بات کرتے ہوئے دل خون کے آنسو رو رہا ہے۔ یہ وہ مادرِ علمی تھی جہاں 70 کی دہائی میں،میں نے اور آپ نے اپنے وقت کی بہترین میسر تعلیم حاصل کی تھی۔جہاں ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی اور ڈاکٹر محمود الحسین جیسے شیخ الجامعہ تھے۔انتظامیہ کا نظم و نسق مثالی تھا۔اُس زمانے کا اسٹاف ٹاؤن بھی قابلِ رشک تھا۔گو کہ اُس کے ایک طرف مشہورِ زمانہ ’ کیفے ڈی پھوس ‘موجود تھا لیکن بدنمائی کے زمرے میں نہیں تھا۔مین لائبریری، تمام فیکلٹیز، کینٹین، الغرض تمام ہی جامعہ واقعی ایک صاف ستھری درس گاہ تھی۔ ٹرانسپورٹ کا انتظام جو بھی بہترممکن ہو سکتا تھا وہ نظر آتا تھا۔ سب سے بڑھ کر اساتذہ کا ایک وقار تھا۔طلباء یونین بھی تھی اور بعد میں شاید اساتذہ یونین بھی بن گئی تھی لیکن یہ دونوں اپنی حدود میں تھیں۔ ایسا کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ ناجائز کاموں کو زبردستی منوانے یا ترقی کا شارٹ کٹ استعمال کرنے کے لئے جامعہ کراچی کے شیخ الجامعہ ، انتظامیہ اورسینڈیکیٹ کو بلیک میل کی دھمکیوں سے دبا لیا جائے۔اور اب۔۔۔اب...

غلط کو صحیح ثابت کرنے کا نوحہ

Image
 روزنامہ نوائے وقت کراچی اور کوئٹہ کی 10 نومبر بروز سنیچر کی اشاعت کے صفحہ 11 پر شائع ہونے والا کالم اُلٹ پھیر

پاکستانی فلموں کے سنہری دور کے کیریکٹر ایکٹر اور پاکستان ٹیلی وژن کے اداکار کمال ایرانی

Image
 روزنامہ نوائے وقت کے کراچی اور کوئٹہ ایڈیشنوں میں  6 نومبر 2018 کی اشاعت میں صفحہ 9 پر شائع ہونے والی تحریر

پاکستان پوسٹ کے آپریشنل اسٹاف سے بے انصافی ۔۔۔۔کیوں؟

Image
 یہ کالم کراچی اور کوئٹہ سے شائع ہونے والے روزنامہ بوائے وقت کی مورخہ 3 نومبر کی اشاعت میں صفحہ 11 پر شائع ہوا۔

Qabil e Tareef Pakistan Post

Image
 یہ تحریر روزنامہ نوائے وقت کی 8   اپریل 2017 کی کراچی اور کوئٹہ اشاعت میں شائع ہوئی

قابلِ تعریف پاکستان پوسٹ

قابلِ تعریف پاکستان پوسٹ   تحریر شاہد لطیف ویسے تو یہ بات خاصی حد تک درست ہے کہ عام طور پر سرکاری محکموں کا تاثر عوام میں کوئی زیادہ اچھا نہیں لیکن کبھی کبھی گرمیوں میں ٹھنڈی ہوائیں بہت بھلی لگتی ہیں بعینہٖ آج کے دور میں کسی سرکاری محکمے میں عوام سے سیدھے مونہہ بات بھی کر لینا ایک نئی بات لگتی ہے۔ یہ تمہیدی جملے پاکستان پوسٹ کے لئے لکھے گئے ہیں جہاں راقم کو ایک بہت خوشگوار تجربہ حاصل ہوا۔ مجھے ۳ اپریل بروز پیر ، پی۔ ڈبلو۔ ڈی سوسائیٹی، واقع اِسلام آبادکے پاکستان پوسٹ، یعنی ڈاک خانہ ، کچھ کتابیں کراچی پارسل کرنے کی معلومات کے لئے جانا پڑ گیا۔ مذکورہ ڈاکخانے کے عملے نے وہ معلومات بہت توجہ سے دیں۔پھر جب میں وہ کتابیں کپڑے کے تھیلے میں پارسل کی صورت لایا تو ڈاکخانے کا عملہ مجھ سے پہلے آنے والوں سے بہت احسن طریقے سے معاملہ کرتا نظر آیا۔میری باری آنے پر مجھے بھی مناسب وقت دیا اور اطمینان دلایا گیا کہ یہ پارسل آج شام کو نکل جائے گا اور اُمید ہے کہ انشاء اللہ جمعرات کو کراچی میں بھیجے گئے پتے پر موصول ہو جائے گا۔گو کہ یہ جھٹکا ہی کافی تھا کہ پاکستان کے ایک سرکاری دفتر میں ع...