Posts

فلمی شخصیات اور ریڈیو ۔۔۔۔ جنگِ ستمبر 1965 کی جنگی موسیقی

Image
 فلمی شخصیات اور ریڈیو ۔۔۔  1965 کی جنگی موسیقی یہ تحریر روزنامہ نوائے وقت کراچی اور کوئٹہ کی اشاعت میں صفحہ 12 پر شائع ہوئی۔

نئے کراچی کا آغاز ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Image
"روزنامہ نوائے وقت کراچی اور کوءٹہ کی یکم ستمبر کی اشاعت میں خاکسار کا کالم " اُلٹ پھیر"

انہونی

شَاذ و نا دِر انہونی تحریر شاہد لطیف بعض باتیں یا واقعات بَس شاذ و نا دِر ہی ہوا کرتے ہیں۔دوسرے الفاظ میں کبھی کبھی انہونی بھی ہو جاتی ہے۔ایسا ہی ایک بالکل سچا واقعہ رقم کرتا ہوں ۔اِس طرح کا کوئی واقعہ آپ نے کم ہی سُنا ہو گا۔ میرے والد صاحب محکمہء صحت میں تھے اور ہم لوگ کراچی ائرپورٹ کے سرکاری مکانوں میں رہتے تھے۔ہمارے پڑوس میں ائرپورٹ ڈسپنسری کے ڈاکٹر منصور اپنی والدہ بہن اور بھائیوں کے ساتھ رہا کرتے تھے۔ہم لوگ 1964 سے لے کر ایک عرصہ ساتھ رہے ۔ڈاکٹر منصور سے چھوٹے محفوظ بھائی تھے جو بعد میں پاکستان ٹورازم ڈیویلپمنٹ کارپوریشن PTDC سے طویل عرصہ وابستہ رہے۔ اِس واقعے کے محور محفوظ بھائی ہی ہیں۔ یہ 1992 کا موسمِ سرما تھا، میرا کسی کام سے میٹروپول ہوٹل کی طرف جانا ہوا تو خیال آیا کہ یہاں پی ٹی ڈی سی کے دفتر میں تو محفوظ بھائی بھی ہوتے ہیں ۔پس یہ سوچ لئے میں وہاں جا پہنچا۔  ’’ السلام علیکم محفوظ بھائی! اِدھر سے گزر رہا تھا سوچا سلام کرتا چلوں‘‘۔ وہ میری اِس غیر متوقع آمَد پر بے حد خوش ہوئے۔سب گھر والوں کا حال احوال پوچھا۔ ’’ آج ماشاللہ آپ بہت خوش نظ...

Pakistan Bhi Turkey Aur Japan Ban Sakta Hay .............

پاکستان بھی ترکی اور جاپان بن سکتا ہے ۔۔۔  تحریر شاہد لطیف مئی 2013 وہ یادگار دن تھا جب ترکی نے اُس وقت کے وزیرِ اعظم طیب اردگان کے دور میں آئی ایم ایف کے قرضے کی آخری قسط ادا کی۔ ترکی اور آئی ایم ایف کی یہ کہانی 1958 سے شروع ہوئی ۔ قرضوں کی بھی اپنی ایک الگ دنیا ہوتی ہے۔بس ایک مرتبہ جو ملک اس کی دلدل میں اترا تو ۔۔۔  سوال یہ ہے کہ طیب اردگان کے پاس وہ کون سا چراغ الہ دین تھا جس کو رگڑا اور جن کو حکم دیا کہ تمام قرضے اُتر جائیں؟ ہاں ! یہ ضرور ہے کہ سمت کا تعین درست تھا اور رہبر مخلص تھا ۔ پھر کامیا بیوں نے قدم چومے۔ قسمت کی دیوی کا مہربان ہونا بھی ایک اہم عنصر ہے لیکن حکومت پر قوم کا اعتماد سب سے زیادہ اہم ہے۔یہی وہ محرک ہے کہ جو عوام کو پیٹ پر پتھر باندھ کر خوشی خوشی کچھ کر گزرنے پر راغب کرتا ہے۔ جب ترکی نے آئی ایم ایف کا $23.5 بلین ڈالر قرضہ اُتار دیا تو پڑھنے والوں کی دل چسپی کے لئے لکھتا چلوں کہ وہی آئی ایم ایف جو اپنی من مانی شرائط پر مقروض ترکی سے بات کرتا تھا اُس نے الٹا ترکی سے 5 بلین یورو کا قرضہ مانگا۔  اب آتے ہیں تصویر کے دوسرے رُخ ...

پاکستان بھی ترکی اور جاپان بن سکتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Image
  'روزنامہ نوائے وقت کراچی اور کوئٹہ ایڈیشن  کے صفحہ 11 پر 25  اگست کو شائع ہونے والا خاکسار کا کالم ' اُلٹ پھیر 

ُپی ڈی ایف فائل: آپ کو بھول جائیں ہم ۔۔۔معروف فلمی شاعر تسلیم ؔ فاضلی

آپ کو بھول جائیں ہم ۔۔۔ معروف فلمی شاعر تسلیم ؔ فاضلی (1947سے 17 اگست 1982 ) تحریر شاہد لطیف اظہار انور المعروف تسلیم ؔ فاضلی نے 1947 میں دہلی کے ایک ادبی گھرانے میں آنکھ کھولی۔ ان کے تذکروں میں تاریخِ پیدائش 1941 بھی ملتی ہے۔بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹے ہونے کی وجہ سے گھر بھر کی آنکھ کا تارہ اور لاڈلے تھے۔والد سید مرتضیٰ حسین دعاؔ ڈبایؤی اور دو بڑے بھائی صباؔ فاضلی ( یہ جوانی میں ہی انتقال کر گئے) اور نداؔ فاضلی شاعر اور ادیب تھے۔ اس طرح سے گویا لکھنا لکھانا اور شعر گوئی تسلیم ؔ فاضلی کی گھٹی میں تھی۔ابھی یہ کافی چھوٹے تھے جب ان کو اُس وقت کے جید اہلِ قلم کے پاس اُٹھنے بیٹھنے کا موقع ملا؛ جیسے شکیل ؔ بدایونی، جگر ؔ مرادآبادی اور جانثار ؔ اختر وغیرہ۔ یہ اور دیگر نامور ادبی شخصیات تسلیم ؔ فاضلی کے والد کے پاس آیا کرتی تھیں۔گھر کی بیٹھک کے ساتھ ساتھ انہوں نے اپنے والد اور بھائیوں کے ہمراہ چھوٹے بڑے مشاعروں میں بھی جانا شروع کر دیا۔اِس سب کا بہت خوشگوار اثر ہوا اور تسلیم ؔ فاضلی نے کم عمری ہی میں شعر کہنے شروع کر دیے۔وہ میٹرک کا امتحان دینے کے فوراََ بع...

ۤپ کو بھول جائیں پم ۔۔۔۔ معروف فلمی شاعر تسلیم فاضلی

Image
 روزنامہ نوائے وقت کی 21  اگست اشاعت میں کرچی اور کوئٹہ کے  صفحہ فن و ثقافت میں شائع ہونے والی تحریر