Posts

فلمی شخصیات اور ملی نغمے

Image
روزنامہ نوائے وقت کی 7  اگست کی اشاعت میں کراچی اور کوئٹہ سے شائع ہونے والی خاکسار کی تحریر

ممی کی بد دعا

لوسا مَے ایلکوٹ : Louisa May Alcott ( نومبر  1832 سے 6 مارچ 1888) ایک نامور امریکی ناول نگار اور شاعرہ گزری ہیں۔ مندرجہ ذیل کہانی ان کی مشہور مختصر کہانی Lost in a Pyramid, or the Mummy's Curse سے ماخوذ ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ممی کی بد دعا مصر کے پس منظر میں لکھا گیا ایک پراسرار ماجرا تحریر شاہد لطیف ’’ فیروز یہ کیا ہے؟ ‘‘ نازاں نے سونے کی بنی ہوئی قدیم زمانے کی ڈبیہ کو دلچسپی سے دیکھتے ہوئے سوال کیا۔ ’’ مصر کے فرعونوں کے دور کے نامعلوم بیج‘‘۔یہ کہتے ہوئے فیروز کے چہرے پر خوف کے سائے لہرا گئے۔اُس نے ڈبی کی طرف دیکھا جس میں چند بیج رکھے ہوئے تھے۔ ’’ قدیم مصری دور کے بیج؟‘‘۔نازاں نے حیران ہوتے ہوئے سوال کیا،’’ یہ کہاں سے آئے؟‘‘۔ ’’ جمعہ جمعہ آٹھ دن ہوئے ہیں ہماری شادی کو۔۔۔بہت ساری چیزیں رفتہ رفتہ جان جاؤ گی‘‘، فیروز نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا۔’’ یہ ایک عجیب کہانی ہے تمہیں سنائی تو کہیں ڈر ہی نہ جاؤ‘‘ !یہ بات اُس نے اشتیاق کو بڑھا نے کے انداز میں کہی۔ ’’ ڈر کو چھوڑو ! مجھے تو عجیب و غریب کہانیاں بہت پسند ہ...

پاکستانی انتخابات اور بے چارے جانوروں پر ظلم کی انتہا ۔۔۔آخرکیوں؟

پاکستانی انتخابات اور بے چارے جانوروں پر ظلم کی انتہا ۔۔۔آخرکیوں؟ تحریر شاہد لطیف انتخابات۔۔۔ وہ بھی پاکستان کے۔۔۔خواص تو خواص ! عوام میں ایک عجیب اضطرار، بے چینی، آدم بیزاری،مزاج کی تلخی،غصے میں دماغی فیوز کا اُڑنا وغیرہ وہ تمام منفی اوصاف جو انسان کو آدمیت کے درجے سے نیچے گرا دیتے ہیں اپنے ساتھ لاتے ہیں ۔خاکسار نے 1970 سے لے کر 2018 کے موجودہ انتخابات میں ایک چیز تواتر سے محسوس کی وہ ہے عدم برداشت۔ سیاسی کارکنوں کی تربیت کا کوئی انتظام سرے سے موجود ہی نہیں اور یہ شاید کبھی تھا بھی نہیں۔ زندہ یا مردہ باد کہہ دینا ہی سیاسی کارکن کی ڈیوٹی ہے اور شاید یہی اس کی تربیت بھی۔یاد رکھنے کی بات ہے کہ سیاسی پارٹیوں کے لیڈر پارٹی کے عام کارکنوں کے بغیر صفر ہوتے ہیں۔جہاں بندر بانٹ کا کوئی آسرا ہو وہاں صرف پارٹی کے ’’ بڑے ‘‘ یا اُن کے ’’ جی حضوریے‘‘ ہی جا سکتے یا جاتے ہیں۔جلاؤ گھیراؤ، دھرنے، ریلیوں اورجعلی علامتی بھوک ہڑتال ، آنسو گیس اور پولیس کی لاٹھیاں کھانے کے موقع پر پارٹی کارکنان کی ضرورت پڑتی ہے۔ ہر دور میں اِن کو کوئی حیثیت اور کوئی مقام نہیں دیا گیا۔پاکستان کی تمام چھوٹی بڑی پ...

Intakhabaat Aur Janwaron Par Zulm Ki Intaha ....... Aakhir Kiyoon?

Image
  روزنامہ نوائے  وقت کراچی اور کوءٹہ کی 4  اگست کی اشاعت کے صفحہ 11 پر شائع ہونے والا کالم " اُلٹ پھیر "

نیا ۔۔۔پرانا ۔۔۔نہیں! صرف قائد ؒ کا پاکستان

نیا ۔۔۔پرانا ۔۔۔نہیں! صرف قائد ؒ کا پاکستان تحریر شاہد لطیف  25جولائی 2018 کا دِن آیا اور گزر گیا۔ہر ایک دن کی ایک تاریخ ہوتی ہے اور کوئی تاریخ۔۔۔ ’’ تاریخ‘‘ بن جاتی ہے۔مثلاََ 14اگست1947۔ 14اگست1947 سے لے کر 25 جولائی 2018تک پاکستان میں بہت سی تاریخیں ’’ تاریخ ‘‘ بن چکیں۔یقیناََ یہ آخری تاریخ بھی تاریخ بن جائے گی۔ 2018 کے انتخابات کا اصل معرکہ میڈیا کے میدان میں ہوا۔یہاں گھمسان کے رَن کے ساتھ ساتھ کچھ لطائف بھی گردش میں رہے۔مثلاََ دو بھایؤں کا ایک مکالمہ میری بیٹی نے مجھے بھیجااور فرمائش کی کہ میں اِس پر ایک کالم لکھوں ۔انتخابات کے نتائج اور تجزیوں پر پورے ملک میں قلمکاروں کے قلم رواں ہیں لیکن میں صرف اِن دو بھایؤں کے مکالمے کا تجزیہ کروں گا۔ دو بھائی گفتگو کر رہے ہیں۔ چھوٹا سات سالہ بھائی اپنے اٹھارہ سالہ بھائی سے کچھ پوچھ رہا ہے: چھوٹا بھائی: بھائی ایک بات تو بتائیں۔ میں کئی دنوں سے ایک گاناسُن رہا ہوں ’ بنے گا نیا پاکستان‘ تو پھر پرانا کہاں جائے گا؟ اور یہ نیا والا ہو گا کہاں؟کیا ہم بھی وہاں شِفٹ ہوں گے ؟ ہم تو اپنی پرانی چیزیں کام والی کو دیتے...

Naya .... Purana .... Naheen ! Sirf Quaid Ka Pakistan

Image
 "روزنامہ نوائے وقت کرزی اور کوئٹہ کی 28 جولائی کی اشاعت میں صفحہ 11 پر شائع ہونے والا کالم " اُلٹ پھیر

آئیے۔۔۔ سائیکل چلائیے

آئیے۔۔۔ سائیکل چلائیے تحریر شاہد لطیف زمانہ کتنی ہی ترقی کر لے کچھ چیزیں ایسی ہوتی ہیں جن کی اہمیت گزرتا وقت کم نہیں کر سکتا۔مثلاََ گھوڑا مثلاََ سائیکل۔۔۔دونوں سواریاں ہیں۔۔۔ایک وقت تھا کہ یہ دونوں اپنے وقت کے status symbol تھے۔۔۔خیر گھوڑا تو اب بھی اسٹیٹس سمبل ہے۔اس کی اصل اہمیت پہاڑی علاقوں میں اب بھی پہلے جیسی ہی ہے۔رہی سائیکل تو اب یہ اسٹیٹس سمبل تو نہیں رہی لیکن اہمیت کے اعتبار سے اس میں کوئی کمی نہیں آئی۔ہاں قیمت کے اعتبار سے بچگانہ سائیکلیں اب بھی اسٹیٹس سمبل بنتی ہیں۔ خواہ کچھ بھی ہو سائیکل اب بھی مزدور طبقے اور خاصی تعداد میں طلباء کی اہم ضرورت ہے۔یہ وہ سواری ہے کہ ’’ ہینگ لگے نہ پھٹکڑی اور رنگ بھی چوکھا آئے‘‘۔بس خریداری کا خرچہ پھر نہ تیل نہ پانی۔۔۔احتیاط سے چلائیں تو برسوں چلتی ہے۔چلتے چلتے ’ چین ‘ اتر جائے تو بیٹھ کر چین چڑھا لیں ۔ پتھریلی زمین پر ٹائر پنکچر ہو جائے تو چند روپؤں میں پنکچر لگوا لیں اور پہیے کی ہوا کم ہو جائے تو خود ہی بھر لو۔ بات سائیکلوں کی ہو تو ایک ادارے کا نام سائیکل سے نتھی اب بھی ہماری عمر کے لوگوں کے لاشعور میں زندہ...