Posts

Khwab Sa Daikha Hay Tabeer No Janay Jaya Ho .........

Image
 "روزنامہ نوائے وقت کی 9 جون 2018 کی اشاعت میں کراچی اور کوئٹہ سے ایک ساتھ شائع ہونے والا کالم " اُلٹ پھیر

کیا وہ فریبِ نظر تھا ۔۔۔؟

کیا وہ فریبِ نظر تھا ۔۔۔؟ تحریر شاہد لطیف یہ واقعہ تقریباََ تیس سال قبل خود میرے ساتھ پیش آنے والے حقائق ہیں جب میں انسپکٹر آف اسکول کی حیثیت سے محکمہء تعلیم سے وابستہ تھا۔میں مستقل حالتِ سفر میں رہتا جس کو بعض احباب زندگی گزارنے کا بے ڈھنگا پن کہا کرتے ۔ شروع میں مجھے ضلع کے نسبتاََ بڑے قصبوں میں تعینات کیا گیا۔ چند سال گزر گئے۔ پھر مجھے ضلع کے کم ترقی یافتہ حصوں میں بھیجا گیا۔حیرت انگیز طور پر مجھے یہاں کا ماحول، شب و روز اور زندگی اتنی پسند آئی کہ میں نے محکمہ کو لکھا کہ میں بخوشی ضلع کے دور دراز علاقوں میں جا سکتا ہوں۔ تواُنہوں نے بھی مجھے ایک پس ماندہ ترین پہاڑی علاقے میں بھیج دیا جہاں کی آبادی بہت کم تھی اور اسکولوں کے درمیان فاصلہ بہت زیادہ تھا۔ یہاں آنا میرے لئے مہم جوئی سے کم نہ تھا ۔جب میں پسماندہ جگہوں پر جاتا تھاتو وہاں کے اسکول میرے معائنوں کو بہت اہمیت دیتے تھے ۔ مجھے لوگوں میں زیادہ گھلنا ملنا پسند نہیں لیکن اکثر اِ ن معائنوں کے بعد وہ مجھے کسی نہ کسی مقامی تقریب کا مہمانِ خصوصی بنا دیتے تھے۔ اور اِس دفعہ۔۔۔اِس پہاڑی علاقے میں میرا آنا بہت ہی ہنگامہ خیز رہا۔...

کراچی کے ’ پتھارے زون ‘ ۔۔۔

کراچی کے ’ پتھارے زون ‘ ۔۔۔ تحریر شاہد لطیف رمضان جیسے جیسے آگے بڑھ رہا ہے ویسے ویسے کراچی کے مختلف علاقوں میں تجاوزات، ٹھیلے اور پتھارے بڑھتے جا رہے ہیں۔لیاقت آباد ، نارتھ ناظم آباد، ناظم آباد، اورنگی ٹاؤن، کورنگی ٹاؤن، نارتھ کراچی، قائد آباد، لانڈھی، برنس روڈ، رنچھوڑ لائن، کھارادر سمیت اولڈ سٹی ایریا اور شہر کے مختلف تجارتی مراکزکے اطراف اور خاص طور پر صدر میں سینکڑوں نہیں ہزاروں پتھارے لگ گئے ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹریفک پولیس فی پتھارا /ٹھیلا 200 سے1000روپے یومیہ بھتہ یا رشوت وصو ل کر رہی ہے۔ اِس کے ساتھ ساتھ غیر قانونی چارجڈ پارکنگ پر اور موٹر سائیکل اور کاروں کو لفٹر سے اُٹھانے کے پولیس کروڑوں روپے لے رہی ہے۔ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ر مضان کیا آیا ، کراچی پتھارہ مافیا کا شہربن گیا۔اور   صدر ۔۔۔ ’’ پتھارہ زون‘‘۔  جی ہاں! آپ نے ماضی میں اسلام آباد میں ہونے والے عوامی تحریک اور پاکستان تحریکِ انصاف کے 126 روزہ دھرنے میں ریڈ زون کا نام بار بار سُنا ہو گا۔لیجئے اب اہلِ کراچی کے پاس بھی ایک ’ زون ‘ ہو گیا۔ بیشک کراچی میں صدر کے علاقے کو پتھار...

Karachi Kay Patharay Zone

Image
 جون 2 کے روزنامہ نوائے وقت کراچی اور کوئٹہ کے صفحہ 11 پر شائع ہونے والا کالم "اُلٹ پھیر"

اتنا نہ بڑھا پاکیء داماں کی حکایت

اتنا نہ بڑھا پاکیء داماں کی حکایت تحریر شاہد لطیف محاورے اور ضرب الامثال ایسے ہی نہیں بن جا تے، اِن کے پیچھے کوئی کہانی یا واقعہ ہوا کرتا ہے۔ ایک کہاوت سنتے آئے تھے کہ’ آپ ہی سوال کریں آپ ہی دیں جواب‘ وہ سابقہ وزیرِ اعظم نواز شریف پر صادر آتی ہے۔اُن کی مسلسل چیخ و پکار کہ ’’ مجھے کیوں نکالا‘‘ کا جواب انہوں نے خود ہی دے دیا۔ شاید انہیں انتظار تھا کہ عدالتِ عالیہ سے تا حیات نا اہلی کے فیصلے کے بعد اپنے سوال’ مجھے کیوں نکالا‘ کا ’ کہیں ‘ سے جواب آ جائے ۔ اب 10ماہ ہونے کو آئے لیکن ’ جِس ‘ موثر جواب کا انتظار تھا وہ نہیں آیا لہٰذا اب سابقہ وزیرِ اعظم نواز شریف نے اگلے روز خود ہی جواب دے دیا کہ ’ مجھے یوں نکالا‘۔۔۔ اُنہوں نے ایوان فیلڈ ریفرنس میں اپنے بیان کے آخری حصہ میں اِس راز سے پردہ اُٹھایا کہ انہیں وزارتِ عظمیٰ سے کیوں نکالا۔اُنہوں نے کہا کہ مجھے مشرف غداری کیس چلانے پر نکالا ۔اب حقائق کیا ہیں؟ سابقہ وزیرِ اعظم کے نیب عدالت میں دیے گئے الزامی وعوےٰ کا جواب کون دے گا؟ دوسرے الفاظ میں اب انہوں نے فوج اور سول حکومت کے ما بین ایک نیا جھگڑا کھڑا کر دیا۔اس طرح وہ ملک کی طاق...

Itna Na Barha Pakiyay Daman Ki Hikayat

Image
مئی 26، 2018 کے روزنامہ نوائے وقت کراچی اور کوئٹہ سے بیک وقت شائع ہونے والا کالم " اُلٹ پھیر"۔

بجلی کی ترسیل میں آئے دن کے طویل بریک ڈاؤن۔۔۔کیوں؟

بجلی کی ترسیل میں آئے دن کے طویل بریک ڈاؤن۔۔۔کیوں؟ تحریر شاہد لطیف بدھ کے روز ملک کے ایک بڑے حصہ میں کئی گھنٹے بجلی کی فراہمی بند رہی جس کے نتیجہ میں تمام نظامِ زندگی معطل ہو کر رہ گیا۔اس کی وجہ ترسیلی نظام میں فنی خرابی تھی۔ یہ کوئی معمولی واقعہ نہیں، خطرہ کی گھنٹی ہے کہ ایک مہینے میں دو مرتبہ ملک گیر بجلی کی ترسیل کا بریک ڈاؤن ہو گیا ۔ معلومات کیں تو ذرائع نے بتایا کہ مختلف گرڈ اسٹیشنوں پر اچانک نظام میں ہو جانے والی کسی بھی بے قاعدگی یاتکنیکی خرابی کو وہیں کے وہیں روکنے والا وہ خود کار حفاظتی دفاعی طریقہ سرے سے موجود ہی نہیں جس سے ’ قومی گرِڈ ‘ پر پڑنے والے بوجھ کے خاتمے کی کوئی تدبیر کی جاتی۔اِس سے اس دعوےٰ کی بھی قلعی کھل گئی کہ ’ نظام کی اَپ گریڈیشن‘ اور اصلاحات کر دی گئی ہیں۔ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ پاور سیکٹر میں مانیٹرینگ سمیت تکنیکی عملہ کی اہلیت اور فعالیت کے معاملات شرمناک حد تک کمزور ہیں لہٰذا یہ بھرتیاں سنگین اور مجرمانہ ہیں۔ بجلی کا پورا نظام اب تک نا قابلِ بیان پیچیدگی کا شکار ہے ، لہٰذا خاکسار کے نزدیک’’ بریک ڈاؤن ‘‘ کی حقیقتت ،تحقیق طلب ہے۔ بجلی ...