Posts

سپریم کورٹ کے احکامات کی خلاف ورزی۔۔۔محکمہ تعلیم کی نا اہلی

سپریم کورٹ کے احکامات کی خلاف ورزی۔۔۔محکمہ تعلیم کی نا اہلی  تحریر شاہد لطیف ۔۔۔ پھر وہی ہوا جِس کا ڈر تھا۔۔۔کراچی کے نجی تعلیمی اداروں نے سپریم کورٹ کے احکامات کی خلاف ور زی کرتے ہوئے نئے سال کے لئے فیسوں میں 25سے 40فی صد اضافہ کر دیا۔ اِس کے ساتھ ساتھ زیادہ تر نجی اسکو ل انتظامیہ، والدین کونئی کلاسوں کے لئے تمام کاپیاں کتابیں اور یونیفارم بھی’ صرف‘ اسکول ہی سے خریدنے پر مجبور کر رہی ہے۔پیرنٹس ایکشن کمیٹی کا کہنا ہے کہ وہ اُن اسکولوں کی من مانیوں کے خلاف بھر پور احتجاج کرے گی اور جِن اسکولوں نے فیسوں میں اضافہ کیا ہے اُن کے باہر احتجاجی مظاہرے کئے جائیں گے۔اِن خیالات کا اظہار پیرنٹس ایکشن کمیٹی کے چیئرمین محمد کاشف صابرانی نے کیا۔اُنہوں نے کہا کہ نجی اسکولوں کے مالکا ن نے سپریم کورٹ کے واضح احکامات کے باوجود فیسوں میں مان مانا اضافہ کر کے اپنے آپ کو قانون سے بالا تر ہونے کا ثبوت پیش کر دیا ۔رواں تعلیمی سال میں، امتحانات سے پہلے ہی والدین سے زبردستی جون اور جولائی کی فیسیں وصول کی جا چکی ہیں اور اب دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ غیر قانونی طور پر بڑھائی گئی فیسوں کے بقایا جات ...

Supreme Court Kay Ahkamaat Ki Khllaf Warzi ...... Mahakmah-e- Taleem Ki Na- Ahli

Image
 'روزنامہ نوائے وقت کراچی کی 7 مارچ 2018 کی اشاعت میں کالم  ' اُلٹ پھیر 

فٹ پاتھ پر اسکول۔۔۔محکمہء تعلیم سندھ پر آفرین

فٹ پاتھ پر اسکول۔۔۔محکمہء تعلیم سندھ پر آفرین  تحریر شاہد لطیف جھگی اسکول توایک عرصہ سے پاکستان کے مختلف شہروں میں فعال ہیں۔لاہور میں دریائے راوی کے کنارے خاکسار نے بھی ایک جھگی اسکول کا دورہ کیا تھا،جہاں پر تعلیم کا معیار مناسب تھا۔ جھگی اسکول تو سمجھ میں آتے ہیں کہ جھگیوں میں کسی فلاحی تنظیم نے علاقے کے بچوں کے لئے جھگی ہی میں ایک اسکول بنایا اور محنتی اور عوام دوست اساتذہ بھی دستیاب ہو گئے لیکن کلفٹن میں فٹ پاتھ ہی پر ایک فلاحی تنظیم اوشن ویلفئر ایسو سی ایشن ،کچرا اٹھانے والے بچوں کی تعلیم و تربیت کر رہی ہے۔ اِس ’ فٹ پاتھ اسکول‘ سے متعلق بات اعلی عدالت تک جا پہنچی۔ سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ کے روبرو کلفٹن فٹ پاتھ اسکول کے بچوں کو فٹ پاتھ پر پڑھانے کی درخواست کی سماعت ہوئی۔ شنوائی میں چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیے کہ سُنا ہے سیکریٹری تعلیم نے کچھ نہیں کیا ۔ اُن سے کہیں کہ اب وہ عدالت احتیاط سے آئیں۔ہم نے سیکریٹری تعلیم کو کہا تھا کہ وہ خود دورہ کریں اور پیشی پر ذاتی حیثیت سے آئیں۔عدالتِ ...

Foot Path School ...... Mahekmah Taleem Sindh Par Aafreen !

Image
سنیچر 31 مارچ، 2018 کے نوائے وقت کراچی کے صفحہ 11 پر شائع ہونے والا کالم 

دنیائے گائیکی کا ایک بڑا نام، احمد رشدی

احمد رُشدی ( 1938سے 11 اپریل 1983) تحریر شاہد لطیف 80 کی دہائی میں، پاکستان ٹیلیوژن کراچی مرکزکے شعبہ پروگرام میں خاکسار کو ملک کی نامور شخصیات کوقریب سے دیکھنے ، اور ان کی صحبت میں بیٹھنے کا موقع ملا ۔ ان کے ساتھ کام کرنے کا تجر بہ اور ان کی فنکارانہ زندگی کی باتیں شاید پڑھنے والوں کو دلچسپ لگیں ۔جیسے احمد رشدی جو پاکستانی فلمی صنعت کا ایک بہت بڑا نام ہے۔ فلمی دنیا میں ان کی آمد ریڈیو پاکستان کراچی مرکز کے ذریعہ ہوئی۔ جہاں 50 کی دہائی کے اوائل میں ریڈیو سے ان کی آواز میں بچوں کے پروگرام کا یہ گیت نشر ہوا :’’ بندر روڈ سے کیماڑی میری چلی رے گھوڑا گاڑی۔۔۔‘‘ یہ آج بھی دلچسپی سے سنا جاتا ہے ۔احمد رشدی کی اس کامیابی کا سہرا مہدی ظہیر صاحب کے سر ہے جو اس گیت کے شاعر اور موسیقار تھے ۔ کُچھ ہی عرصہ بعد احمدرُشدی ملکی فلمی صنعت کے سنہری دور کا ایسا ستارہ ثابت ہوا جس کی تابندگی کم و بیش30 سال جاری رہی۔ رُشدی صاحب کے مشہور فلمی گیتوں کی فہرست بہت طویل ہے۔ اداکار وحید مراد کی فلموں کی اوپر تلے کامیابی کا ایک اہم سبب احمدرُرشدی کے پلے بیک گانے بھی تھے۔ 80 کی دہائی، صحت کے حوالے ...

Duniya-e-Gayaiki Ka Aik Bara Naam, Ahmad Rushdi

Image
روزنامہ نوائے وقت کی مورخہ 27 مارچ کی اشاعت

بھارتی اور پاکستانی فلمی صنعت کے نامو ر گیت نگار تنویر نقوی

بھارتی اور پاکستانی فلمی صنعت کے نامو ر گیت نگار تنویر نقوی تحریر شاہد لطیف سید خورشید علی المعروف تنویر ؔ نقوی ( 6 فروری 1919 سے یکم نومبر 1972): تنویر ؔ نقوی برِ صغیر پاک و ہند کے ایک نامور گیت نگار ہیں۔19سال کی عمرہی میں اُنہوں نے فلم ’’ شاعر‘‘ ( 1938) کے لئے گیت لکھے۔اِن کے فلمی گیت پاک و ہند کی تقسیم سے پہلے ہی عوام میں بے حد مقبول ہو گئے تھے۔ نومبر 1946میں بننے والی ہدایت کار محبوب کی فلم ’’ انمول گھڑی‘‘نے اُن کی شہرت میں اضافہ کیا ۔اِس فلم کے گیت: ’’ آواز دے کہاں ہے۔۔۔‘‘، ’’ آ جا میری برباد محبت کے سہارے۔۔۔‘‘، ’’جواں ہے محبت حسین ہے زمانہ۔۔۔‘‘ بے انتہا مقبول ہوئے ۔نوشاد علی مذکورہ فلم کے موسیقار تھے۔ اِس کے بعد 23 مئی 1947 کو نمائش کے لئے پیش ہونے والی ہدایت کار سید شوکت حسین رضوی کی فلم ’’ جگنو‘‘ کے گیت مقبول ہوئے ۔مثلاََ فیروز نظامی کی موسیقی میں نورجہاں اور محمد رفیع کی آواز میں : ’ ’ یہاں بدلا وفا کا بے وفائی کے سوا کیا ہے۔۔۔‘‘ ۔ آزادی کے بعد یہ پاکستان آ گئے اور یہاں اُردو اور پنجابی فلموں کے گیت تخلیق کئے۔ پاکستان میں بننے والی پہلی فلم ’’ تیری یاد‘‘ کی...