Posts

واپسی

جون بکنJohn Buchan پرتھ، آسٹریلیا میں 1875 میں پیدا ہوئے۔یہ اسکاٹ لینڈ کے مصنف، ناول نگار، تاریخ دان اور سیاست دان تھے ۔کچھ عرصہ وکالت کی پھر جنوبی افریقہ کی نوآبادیاتی انتظامیہ میں پرائیوٹ سیکریٹری ہو گئے۔دوسری بوئر جنگ ، 11 اکتوبر 1899 سے 31 مئی 1902 کے دوران جنگی تشہیر کے شعبے میں کام کیااور جلد ہی ڈائریکٹر انفارمیشن ہو گئے۔ 1935 میں ان کی خدمات کو سراہتے ہوئے انہیں شاہ جارج پنجم نے کینیڈا کا گورنر جنرل بنا دیا ۔یہ 11 فروری 1940 کو انتقال کر گئے۔ درج ذیل ،ان کی کہانی  THE STRANGE ADVENTURE OF MR. ANDREW HAWTHORN سے ما خوذ ہے: ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ واپسی  تحریر شاہد لطیف کوئی بھی گمشدگی اپنے اندر ایک دلچسپ تجسس لئے ہوتی ہے ۔اگر یہ ناقابلِ فہم ہو تو دلچسپی دو چند ہو جاتی ہے۔بیٹھے بٹھائے کوئی سراغ چھوڑے بغیر اچانک غائب ہو جانا اور پھر واپس آجانابہت پراسرار ہوا کرتا ہے۔ روز مرہ زندگی میں ہمارے اطراف سے خاص اور عام افراد غائب ہوجاتے ہیں یا پھر کر دیے جاتے ہیں ۔عموماََ وہ واپس نہیں آتے اور اپنے پیچھے ایک بے نشان اسرار چھوڑ جاتے ہیں ۔ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ...

کراچی میں اساتذہ پر لاٹھیاں ۔۔۔

کراچی میں اساتذہ پر لاٹھیاں ۔۔۔ تحریر شاہد لطیف خبر کے مطابق کراچی کے اساتذہ پر پولیس نے لاٹھی اور شیلنگ کی جِس کی وجہ سے متعدد زخمی ہو گئے ۔تفصیلات کے مطابق کراچی پریس کلب کے باہر کئی روز سے دھرنے پر بیٹھے اساتذہ نے اپنے مطالبات کی منظوری کے لئے بلاول ہاؤس جانے کے اعلان کے بعد پیش قدمی شروع کی تو پولیس نے اُنہیں آگے بڑھنے سے روک دیا۔جب اساتذہ نے آگے بڑھنے کی کوشش کی تو پولیس نے اِن پر بد ترین لاٹھی چارج شروع کر دیا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ واٹر کینن کے ساتھ ساتھ اِن نہتے اساتذہ پر آنسو گیس بھی داغ دی جِس کے نتیجے میں کئی ایک اساتذہ زخمی ہو گئے۔گرنے والوں کو پولیس نے زبردستی حراست میں لے لیا اور موبائلوں میں بٹھا کر تھانے لے گئے۔ اِس افراتفری کے نتیجہ میں اطراف میں دور دور تک ٹریفک کا نظام مفلوج ہو کر رہ گیا۔ہمیشہ کی طرح پولیس کا یہی موقف تھا کہ مذاکرات کے ذریعے مظاہرین کو روکنے کی کوشش کی گئی لیکن۔۔۔ناکامی پر لاٹھیاں برسا دیں۔ وزیرِ اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے اساتذہ اکرام پر پولیس تشدد کا نوٹس لیتے ہوئے تمام گرفتار اساتذہ کو فوراََ رہا کرنے کا حکم دیااور اپنے وزیرِ دا...

Karachi Main Asatazah Par Lathiyaan ....

Image
 سنیچر 6 جنوری 2018 کے روزنامہ نوائے وقت کراچی کے صفحہ 11 پر شائع ہونے والا خاکسار کا کالم  اُلٹ پھیر

جوتیوں میں دال۔۔۔

جوتیوں میں دال۔۔۔ تحریر شاہد لطیف شہروں میں چھوٹے بڑے مسائل پیدا ہوتے ہی رہتے ہیں ۔اِن سے نبٹنے کے لئے ہی تو شہری حکومتیں، بلدیہ عظمیٰ وغیرہ بنائی جاتی ہیں۔کراچی میں بھی کبھی ایسا ہوا کرتا تھا ۔۔۔ بقول شاعر    ؂                                    اب وہ بہاریں کہاں۔۔۔  پچھلے چند روز سے ایسا لگتا ہے کہ عملاََ یہاں جوتیوں میں دال بَٹ رہی ہے ۔ آج کئی روز ہو چکے لیکن قائدِ اعظمؒ میوزیم سیوریج لائن کی مرمت نہیں ہو سکی۔ محض چند روز اِس پانی کے کھڑے رہنے سے جناح اسپتال کے اطراف میں سڑکیں گہرے گڑھوں میں تبدیل ہو چکی ہیں ،اور تو اور ادارہ امراضِ قلب کی طرف جانے والوں کو بھی بہت مشکل کا سامنا ہے۔اُدہر صدر کے علاقے کی تاجر برادری شدید اضطراب میں ہے ۔ عام شہری متعلقہ محکموں کی غفلت اور نا اہل افراد کے زمہ دار عہدوں پر فائز ہونے کی قیمت ادا کر رہا ہے۔شہر کی تقریباََ تمام اہم سڑکوں پر فٹوں کے حساب سے پانی کھڑا ہے حتیٰ کہ ایمبولینسوں کا وہاں سے آنا جانا بھی بہت ہی دشوار ہ...

Jootiyoon Main Daal

Image
  روزنامہ نوائے وقت کراچی  کی 30 دسمبر، 2017 کی اشاعت میں صفحہ نمبر 11 پر شائع ہونے والا خاکسار کا کالم " اُلٹ پھیر 

پاکستانی فلمی صنعت کے سنہری دور کی آفاقی شخصیت ،علی سفیان آفاقی

پاکستانی فلمی صنعت کے سنہری دور کی آفاقی شخصیت ،علی سفیان آفاقی ( 22 اگست1933۔27جنوری 2015 ) تحریر شاہد لطیف کسی مصنف کے اچھا لکھنے کے کئی پیمانے ہو سکتے ہیں لیکن سب پیمانوں سے بڑا پیمانہ یہ ہے کہ پڑھنے والا جب اُس کی کتاب پڑھنا شروع کرے تو پھر اُس کو ختم کیے بغیر نہ اُٹھے۔بالکل یہی بات علی سفیان آفاقی صاحب کی لکھی ہوئی اور اٹلانٹک پبلی کیشن کی شائع کردہ کتاب ’’ فِلمی الف لیلہ‘‘ کے ساتھ ہوا۔ڈھائی تین سال پہلے خاکسار نے آفاقی صاحب کی یہ کتاب اپنے بڑے بھائی کو بھجوائی۔اِن کا کہنا ہے کہ یہ اتنی دلچسپ تھی کہ ایک ہی نشست میں پڑھ ڈالی۔ میں خوش قسمت ہوں کہ موسیقار نثار بزمی صاحب نے میری ملاقات آفاقی صاحب سے کروائی۔پھر لاہور میں ملازمت کے سلسلے میں آیا تو ماشاء اللہ تقریباََ ہر ہفتہ اِن سے ملاقاتیں ہونے لگیں۔اپنے بارے میں وہ خود کہا کرتے تھے کہ ’’ میری ابتدائی تعلیم بھوپال میں اور گریجویشن لاہور سے ہوئی۔صحافت کا آغاز 1951 میں جماعتِ اسلامی کے ترجمان ’’ تسنیم ‘‘ لاہور سے کیا۔ یہ اخبار بند ہونے کے بعد ہفت روزہ ’ چٹان ‘ اور روزنامہ ’’ نوائے وقت ‘‘ لاہور سے وابستگی رہی۔1953...

Pakistani Filmi San'at Kay Sunheri Daour Ki Aafaaqi Shaksiyat, Ali Sufyan Aafaqi

Image