Posts

Sheereen Nawa Mehnaaz .second and last part

شیریں نوا مہناز   دوسرا اور آخری حصّہ تحریر شاہد لطیف پچھلے ہفتہ مہناز کے ذکرمیں تشنگی رہ گئی ،و ہ ایسی فنکارہ ہے جِس کا تذکرہ کسی بھی لحاظ سے ایک کالم میں نہیں سما سکتا تھا لہٰذا جو باتیں رہ گئیں وہ آپ تک پہنچاتا ہوں۔مہناز عام زندگی میں بے حد ملنسار سادہ پُر خلوص تھی۔ مارچ ۱۹۹۹ میں جب وہ صدر فاروق خان لغاری سے اپنا تمغہء حسنِ کارکردگی لینے اِسلام آباد آئی تو میں نے اُسے اپنے غریب خانے میں قیام کی دعوت دی ۔ایک گیسٹ ہاؤس میں سرکاری انتظام ہونے کے باوجود اُس نے میری دعوت قبول کر لی ۔ اِسی تقریب میں مسرور انور صاحب کو بعد از مرگ یہی ایوارڈ دیا گیا جو اُن کی بیگم نے وصول کیا۔دیر آید درست آید، حکومتِ پاکستان کو۱۹۷۱ میں لکھے گئے قومی گیت: ؂         سوہنی دھرتی اللہ رکھے قدم قدم آباد پر ایوارڈ دینا مسرور بھائی کے دنیا سے گزر جانے پر یاد آیا۔بہرحال تقریب کے بعد میں خود اُسے اپنے گھر واقع لال کڑتی، راولپنڈی لے آیا ۔ میرے لئے یہ اعزاز کی بات ہے ۔ ہم لوگ کچھ عرصہ پہلے ہی کراچی سے پنڈی منتقل ہوئے تھے۔ ہم خود بھی بوری نشین قسم کے لوگ ہیں ۔مارچ کا مہینہ...

شیریں نوا مہناز ۔ دوسرا اور آخری حصہ

Image

29 جولائی 2017 کے روزنامہ نوائے وقت کراچی میں شائع ہونے والی تحریر

Image

سپریم کورٹ نے میاں نواز شریف کو تاحیات نااہل قرار دے دیا

سپریم کورٹ نے میاں نواز شریف کو تاحیات نااہل قرار دے دیا تحریرشاہد لطیف پاناما کیس کا اونٹ بالآخر بیٹھ ہی گیا۔سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق میاں نواز شریف تا حیات نا اہل قرار دے دیے گئے۔ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایسا فیصلہ آیا ہے کہ کوئی سیاستدان تا حیات نا اہل قرار دے دیا جائے۔سیاسی اعتبار سے شاید میاں صاحب کو اتنا نقصان نہ پہنچے کہ اب وہ وزیرِ اعظم بننے کی تینوں مدتیں پوری کر چکے ہیں لیکن ۔۔۔  بات آگے بڑھانے سے پہلے غیر ملکی میڈیا پر گردش کرنے والے اعتراضات پر ہلکا سا تبصرہ ہو جائے۔اُن کا کہنا ہے کہ قومی اسمبلی میں اکثریتی پارٹی ہونے کے باعث اگلا وزیرِ اعظم یقیناََ اسی پارٹی کا ہوگا۔اُن کے خدشات کے مطابق یہ وزیرِ اعظم ربڑ ا سٹیمپ ہو گا۔۔۔ ہماری حکومتوں کی بد قسمتی یہ رہی ہے کہ طاقت کا مرکز ہمیشہ ایک عہدہ رہا۔صدر زرداری کے عہد میں وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی کو عدالت نے توہینِ عدالت کا مرتکب ہونے کے باعث چند سالوں کے لئے نا اہل قرار دے دیا۔ وجہ ۔۔۔ کہ وزیرِ اعظم نے عدالت کے حکم کے مطابق صدر زرداری کے خلاف کرپشن کے پرانے کیس کو دوبارہ کھولنے سے انکار کر دیا...

اوندھی بستی

اوندھی بستی تحریر شاہد لطیف 90کی دہائی میں میرے ایک دوست، جن کا تعلق پاکستان کسٹمز ( مصلحتاََ نام نہیں لکھا ) سے ہے ، جنہیں تاریخی چیزیں اور کھنڈرات دیکھنے کا بہت شوق تھا ، کہنے لگے کہ ’’ لہائی بندر ‘‘ چلنے کا پروگرام بنا لو ۔پوچھا کہ یہاں کیا ہے؟ تو جواب دیا کہ یہاں کہیں قریب ایک بستی کے آثار بہت اچھی حالت میں ہیں ۔اور سُنا ہے کہ کچھ مکان اوندھے بھی ہیں؛ جِن کا ذکر ابنِ بطوطہ نے اپنے سفر نامہ میں کیا ہے۔ پروگرام تو بنا نہیں لیکن تاریخ کا طالبِ علم ہونے کے ناطے میرے اندر شوق اور تجسس نے سر اُٹھایا ، ابنِ بطوطہ کی کتاب کی تلاش شروع ہوئی اور بالآخر کراچی کے اُردو بازار میں رئیس احمد جعفری صاحب کا اُردو ترجمہ مِل گیا۔ تقریباَ 683 سال پہلے ابنِ بطوطہ بر صغیر پاک و ہند سیاحت کے لئے آیاتھا ۔ اُس کی آمد 12 ستمبر 1333عیسوی بنتی ہے۔ سفر کے دوران وہ یادداشتیں مرتب کرتا رہا۔جب 25 سال بعد وطن واپس پہنچا تو گوشہ ء عافیت میں بیٹھ کر اِن کی مدد سے اپناسفرنامہ لکھا ۔ اس دلچسپ سیاحت کے عربی زبان سے فارسی اور پھر اردو میں کئی تراجم ہوئے ۔جناب رئیس احمد جعفری صاحب کے سفر نامہ ابنِ ب...

خوش نصیب موسیقار اختر اللہ دتہ

Image

شیریں نوا مہناز۔روزنامہ نوائے وقت کراچی۔منگل 18 جولائی، 2017

Image